بہار کی کہانی بھلے ہی اتحاد کی سیاست کی ایک اور کڑی لگے، مگر حقیقی ڈراما کہیں اور چل رہا ہے

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 7, 2026360 Views


بہار میں ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے جس میں ڈرامے کا مرکزی کردار اسٹیج پر تو موجود ہے، مگر اپنی ہی کہانی سنانے سے قاصر ہے۔ مہاراشٹر میں ایکناتھ شندے کے عروج کے ساتھ جو سیاسی ڈراما سامنے آیا تھا، وہ اسی طرح کی سیاست کا ایک خاکہ تھا۔ بہار میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اس کہانی کا دہراؤ کم اور ایک نئی تشریح کی طرح  زیادہ محسوس ہوتا ہے۔

’اقتدار سے محرومی ایک بات ہے؛ مگر اپنی ہی کہانی پر اپنا اختیار کھو دینا اس سے کہیں زیادہ گہرا نقصان ہے۔‘(فوٹو: پی ٹی آئی / فیس بک / نتیش کمار)

غداری اور سازش کی سیاست کبھی کسی طے شدہ اسکرپٹ کی پیروی نہیں کرتی بلکہ ہر لمحہ اپنی الگ گرامرتخلیق کرتی ہے-ایسی گرامر جو حالات، خواہشات اور اقتدار کی عجیب و غریب نفسیات سے تشکیل پاتی ہے۔ بہار میں نتیش کمار کے اردگرد جو کچھ ہوا ہے، وہ گویا اسی نوعیت کی ایک درسی مثال ہے-جہاں غداری صرف سیاسی نہیں، بلکہ نفسیاتی بھی ہے۔

یہاں مسئلہ صرف گٹھ بندھنوں کے بدلنے یا اقتدار کے مساوات کے دوبارہ ترتیب پانے کا نہیں ہے؛ بلکہ یہاں ایک ایسی صورتحال پیدا کیے جانے کا سوال ہے جس میں جس شخص کے ساتھ غداری ہوئی ہے، اسے اسی غداری کو نام دینے کی زبان سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔

جمہوری سیاست میں کسی شکایت یا صدمے کو نام دینا بذات خود ایک طرح کی ایجنسی ہے۔ شکست خوردہ رہنما الزام لگا سکتا ہے، دوست سے حریف بننے والے ساتھی اپنی تکلیف بیان کر سکتے ہیں، اور دھوکا کھایا ہوا اتحادی اخلاقی نقصان کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ یہ تمام بیان-خواہ وہ مخلصانہ ہوں یا اسٹریٹجک-جمہوریت کے اسٹیج کا حصہ ہوتے ہیں۔ انہی کے درمیان شہری سیاسی واقعات کی تشریح کرتے ہیں۔ کوئی بولتا ہے، کوئی صفائی دیتا ہے، اور ان سب کے درمیان عوام اپنے معنی کی تشکیل کرتے ہیں۔


لیکن کبھی کبھی اقتدار کی کوریوگرافی اتنی باریکی سے ترتیب دی جاتی ہے کہ یہ کم سے کم حق بھی چھین لیا جاتا ہے۔ نتیش کمار کے معاملے میں کچھ ایسا ہی نظر آتا ہے۔ یہاں غداری کا شکار شخص خاموش رہنے پر مجبور دکھائی دیتا ہے-شاید براہ راست دباؤ سے نہیں، بلکہ انحصار اور سیاسی بقا کی پیچیدہ ساخت کی وجہ سے۔

ایسی خاموشی کو رضامندی سمجھنا بھول ہوگی۔ یہ صاف طور پر حالات کے مد مظر مسلط کیا گیا ایک معاہدہ معلوم ہوتا ہے—اپنی اہمیت برقرار رکھنے کی غیر تحریری شرط ۔


بہار کی کہانی سطح پر چاہے ہندوستان کی مانوس اتحاد کی سیاست کا ایک اور باب لگے، مگر اس کا  حقیقی  ڈراما کہیں اور ہے۔ یہاں ایک ایسا بیانیہ تخلیق کیا جا رہا ہے جس میں ڈرامے کا مرکزی کردار اسٹیج پر موجود تو ہے، مگر اپنی ہی کہانی بیان کرنے سے قاصر ہے۔ وہ منظر میں ہے، مگر کہانی پر اس کا اختیار باقی نہیں رہا۔ ہمعصر ہندوستانی سیاست میں یہ بالکل غیرمعمولی بھی نہیں ہے۔

مہاراشٹر میں ایکناتھ شندے کے عروج کے ساتھ جو سیاسی ڈراما سامنے آیا تھا، اس نے اسی نوعیت کی سیاست کا ایک خاکہ پیش کیا تھا۔ وہاں بھی اقتدار کی مشینری بڑی طبی درستگی کے ساتھ چلائی گئی تھی۔ باہر سے وہ بغاوت اور دوبارہ ترتیب کی کہانی تھی، مگر اندر سے ایک وسیع حکمت عملی کی نہایت محتاط تشکیل۔ بہار میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اس کہانی کا دہراؤ کم اور ایک نئی  طرح کی تشریح زیادہ معلوم ہوتا ہے۔

درحقیقت، ایسی سیاست کا اصل المیہ صرف غداری نہیں ہوتا۔ سیاست کبھی مستقل وفاداریوں کی پناہ گاہ نہیں رہی۔ اتحاد بنتے ہیں، ٹوٹتے ہیں اور پھر نئی شکل میں ابھرتے ہیں۔ اصل المیہ اس نظم و ضبط میں چھپا ہوتا ہے جو غداری کا شکار ہونے والے پر مسلط کر دیا جاتا ہے۔ اسے عوامی زندگی میں اپنا کردار نبھاتےرہنا ہوتا ہے-محتاط، عملی اور متوازن نظر آتے ہوئے-چاہے اس کی سیاسی کہانی کی زمین اندر ہی اندر کھسک چکی ہو۔

باہر سے دیکھنے والوں کو یہ صبر وتحمل سیاسی پختگی  کی طرح معلوم ہو سکتا ہے۔ مگر اس کے اندر ایک اور حقیقت چھپی ہو سکتی ہے-اپنے ہی سیاسی مقدر کو شکل دینے والے حالات پر کھل کر بولنے کی صلاحیت کا بتدریج ختم ہو جانا۔ تب سیاست ایک ایسے اسٹیج میں بدل جاتی ہے جہاں ہیرو دکھائی تو دیتا ہے مگر اس کی آواز کہیں گم ہو جاتی ہے۔


تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سیاست میں غداری اکثر دو بار وقوع پذیر ہوتی ہے۔ پہلی بار تب جب بھروسہ ٹوٹتا ہے-جب معاہدے، چاہے وہ تحریری ہوں یا غیر تحریری ، خاموشی سے توڑ دیے جاتے ہیں۔ اور دوسری بار تب جب زخمی شخص سے اس شکستگی کو نام دینے کی زبان بھی چھین لی جاتی ہے۔

اقتدار سے محرومی ایک بات ہے؛ مگر اپنی کہانی پر اپنا اختیار کھو دینا اس سے کہیں زیادہ بڑا اور گہرا نقصان ہے۔


کیونکہ جمہوریت صرف اداروں اور انتخابات کے حساب وکتاب پر قائم نہیں ہوتی؛ وہ سیاسی واقعات کی تشریح کی آزادی پر بھی قائم ہوتی ہے۔

شہری اپنی سیاسی دنیا کو کہانیوں کے توسط سے سمجھتے ہیں- رہنماؤں، سیاسی جماعتوں، صحافی اور عینی شاہد کے ذریعے بیان کی کہانیوں کے توسط سے۔ جب ان کہانیوں کو احتیاط کے ساتھ قابو میں کیا جانے لگے، جب کچھ آوازوں کو دبا دیا جائے اور صرف چند ایک کو ہی بولنے دیا جائے، تب سیاست کی تشریح کھلی بحث کا موضوع نہیں رہتی؛ بلکہ کنٹرولڈمعنی کی تخلیق بن جاتی ہے۔

بہار شاید ایسے ہی ایک موڑ پر کھڑا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ آخرکار حکومت کس کی بنے گی یا وزیر اعلیٰ کون ہوگا۔ یہ تو انتخابی سیاست کے فطری نتائج ہیں۔ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اس پوری کہانی کو آخر سنائے گا کون۔ کیا وہ لوگ جو دور بیٹھ کر اقتدار کے ایوانوں میں یہ حکمت عملی بناتے ہیں؟ یا کبھی ایسا بھی ہوگا کہ نام نہاد ’انسائیڈر کلب‘کا کوئی رکن وقت کے ساتھ اس واقعے کی سچائی بیان کرنے کا حوصلہ کرے گا؟

بہار کے عوام کے لیے یہ سوال اہم ہے۔ جمہوری مینڈیٹ صرف ووٹوں کی گنتی کے ساتھ ختم نہیں ہو جاتا؛ وہ اس کے معانی کی تشریح میں بھی زندہ رہتا ہے۔ جب ان معانی کو عوام سے دور بیٹھے طاقت کے مراکز خاموشی سے دوبارہ لکھنے لگیں، تب جمہوریت کے اسکرپٹ میں ایک بے چین کر دینے والا حاشیہ شامل ہو جاتا ہے۔

اور شاید یہی اس پورے واقعے کا سب سے دیرپا سبق ہے۔ عوام کا فیصلہ ووٹوں کی گنتی کے دن ظاہر ہو جاتا ہے، مگر اس کے معنی اکثر اس کے بعد طے کیے جاتے ہیں-کبھی کھلے اسٹیج پر، اور کبھی ان کمروں میں جہاں عوام کو کبھی مدعو نہیں کیا جاتا اور بعد میں بتایا جاتا ہے کہ اسے نیا  معنی اورمطلب کیوں دیا گیا۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...