بہار میں نظامِ صحت کو بہتر بنانے کے لیے نتیش کمار کی حکومت نے ایک انتہائی اہم پیش رفت کی ہے۔ نتیش حکومت نے فیصلہ لیا ہے کہ اب سرکاری اسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹرس پرائیویٹ پریکٹس نہیں کریں گے۔ اس سلسلے میں محکمہ صحت کی طرف سے عزم ظاہر کر دیا گیا ہے اور حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کو بہتر و مستقل علاج مل سکے گا۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ سبھی سرکاری ڈاکٹرس پر نافذ ہوگا۔ اس میں بہار ہیلتھ سروس، بہار میڈیکل ایجوکیشن سروس اور اندرا گاندھی امراض قلب انسٹی ٹیوٹ سے جڑے ڈاکٹرس اور اساتذہ بھی شامل ہیں۔ اب یہ سبھی ڈاکٹرس پرائیویٹ کلینک یا پرائیویٹ اسپتالوں میں پریکٹس نہیں کر پائیں گے۔
حکومت کا ماننا ہے کہ کئی ڈاکٹرس سرکاری اسپتالوں میں کم وقت دیتے تھے اور پرائیویٹ پریکٹس پر زیادہ توجہ دیتے تھے۔ اس سے مریضوں کو دقت ہوتی تھی۔ کئی بار اسپتالوں میں ڈاکٹرس وقت پر نہیں ملتے تھے یا علاج ٹھیک سے نہیں ہو پاتا تھا۔ اس مسئلہ کا حل نکالنے کے لیے ہی نتیش حکومت نے یہ سخت قدم اٹھایا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے راجیہ سبھا رکنیت کا حلف لے لیا ہے اور جلد ہی وہ وزیر اعلیٰ عہدہ سے استعفیٰ دینے والے ہیں۔ یعنی اپنے آخری وقت میں نتیش حکومت نے ایک اہم قدم اٹھا کر سبھی کو حیران کر دیا ہے۔
بہرحال، نتیش حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ ڈاکٹروں کو اس فیصلہ کی وجہ سے نقصان نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انھیں غیر پریکٹس بھتہ (این پی اے) اور دیگر حوصلہ افزائی سے متعلق رقوم دی جائیں گی۔ اس سے ان کی آمدنی میں کمی کا ازالہ کرنے کی کوشش ہوگی۔ حالانکہ اس سلسلے میں تفصیلی گائیڈلائنس ابھی جاری نہیں کی گئی ہیں۔ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ اس فیصلہ کو نافذ کرنے کے لیے جلد ہی گائیڈلائنس منظر عام پر لائی جائیں گی۔ اس میں یہ بھی بتایا جائے گا کہ اصولوں پر عمل کس طرح ہوگا اور خلاف ورزی کرنے پر کیا کارروائی ہوگی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس فیصلہ سے سرکاری اسپتالوں کی حالت بہتر ہوگی اور عام لوگوں کو معیاری علاج مل سکے گا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































