
یادو نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جو پارٹی سب سے زیادہ غیر ملکی اور روہنگیا ووٹروں کا مسئلہ اٹھاتی ہے وہی پارٹی یعنی بی جے پی بہار میں اس پر عملی اعتراض کرنے سے گریز کر رہی ہے۔
ادھر، پروگرام میں موجود سینئر وکیل اشونی اپادھیائے نے یوگیندر یادو کے موقف سے اختلاف کیا اور ایس آئی آر کو پورے ملک کے لیے ضروری قرار دیا۔ ان کے مطابق ووٹر بننے کے لیے شہری ہونا، 18 سال کی عمر پوری کرنا اور متعلقہ علاقے میں رہائش بنیادی شرطیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آدھار نہ تو شہریت کا ثبوت ہے، نہ رہائش کا اور نہ ہی عمر کا، اس لیے اسے لازمی دستاویز ماننا درست نہیں۔ اپادھیائے نے زور دے کر کہا کہ اس عمل کو ہر پانچ سال پر لازمی ہونا چاہیے تاکہ انتخابی عمل صاف ستھرا رہے۔
خیال رہے کہ الیکشن کمیشن بہار میں 30 ستمبر کو حتمی ووٹر لسٹ جاری کرے گا، جبکہ سپریم کورٹ 7 اکتوبر کو اس پورے عمل کی آئینی حیثیت پر اپنا فیصلہ سنائے گا۔






