نتیش کمار کی نئی حکومت میں بی جے پی کا اثر پہلے سے کہیں زیادہ گہرا ہوگا اور آر ایس ایس کے نظریاتی ڈھانچے کے مطابق بہار کو ’بلڈوزر تجربہ گاہ‘ بنانے کی پالیسی کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ غیر معمولی اکثریت رکھنے والی حکومتیں اکثر جلد بکھر جاتی ہیں مگر اس بار صورتحال الگ ہے کیونکہ اس کے اثرات بہار سے آگے بڑھ کر آنے والے انتخابات جیسے آسام، مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالہ اور پھر اتر پردیش تک پہنچنے کا امکان ہے۔
یہ نتائج جمہوریت، نمائندگی، انتخابی شفافیت اور ریاستی طاقت کے استعمال کے بارے میں بنیادی سوالات اٹھاتے ہیں۔ بہار کا یہ انتخاب محض ایک سیاسی موڑ نہیں بلکہ جمہوری ڈھانچے کے مستقبل کا سنجیدہ امتحان ہے۔
(مضمون نگار دیپانکر بھٹاچاریہ سی پی آئی-ایم ایل کے جنرل سکریٹری ہیں)






