بہار کے بھاگلپور میں شہر کے اہم عوامی مقام ’سینڈس کمپاؤنڈ‘ میں بڑی تعداد میں کووں کی اچانک موت سے دہشت پھیل گئی ہے۔ جمعرات (19 فروری) کی صبح جب لوگ سیر کے لیے نکلے تو سوئمنگ پول کے قریب مردہ کوّوں کا ڈھیر دیکھ کر دنگ رہ گئے، جس کے بعد مقامی باشندوں میں خوف و ہراس اور تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ شہریوں کے مطابق گزشتہ چند دنوں کے دوران ضلع کے مختلف علاقوں میں پرندوں کی موت کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں۔
مقامی کارکن اشوک داس نے کہا کہ جب میں صبح پہنچا تو میں نے بڑی تعداد میں مردہ کوّے دیکھے۔ میں نے اس سے قبل کبھی ایسا نہیں دیکھا تھا۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں کوئی سنگین بیماری نہ پھیل جائے۔ ان بار بار پیش آنے والے واقعات نے لوگوں میں تشویش بڑھا دی ہے۔ مقامی باشندوں کا ماننا ہے کہ کھلے عوامی مقامات پر پرندوں کی اس طرح اجتماعی موت کسی شدید انفیکشن کی انتباہی علامت ہو سکتی ہے۔
ضلعی محکمہ حیوانات کی افسر انجلی کماری نے بتایا کہ پرندوں کی اس پراسرار موت پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہم نے ’سینڈس کمپاؤنڈ‘ میں پرندوں کی غیر معمولی اموات ریکارڈ کی ہیں۔ نمونے اکٹھے کیے جا رہے ہیں جنہیں لیبارٹری جانچ کے لیے پٹنہ بھیجا جائے گا۔ ہم نے احتیاطی تدابیر اختیار کر لی ہیں، اصل وجہ لیبارٹری رپورٹ آنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔
طبی ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ عوامی صحت کو لاحق کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچنے کے لیے بروقت مستعدی اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اس سے قبل سلطان گنج میں مردہ کوّے ملنے کے بعد انتظامیہ اور محکمہ حیوانات نے علاقے کو جراثیم کش ادویات سے صاف کیا تھا اور نمونے لیبارٹری جانچ کے لیے بھیجے تھے۔ حال ہی میں نوگچھیا کورٹ کے علاقے سے بھی پرندوں کی موت کی خبریں سامنے آئی تھیں، جہاں انجلی کماری نے برڈ فلو کی تصدیق کی تھی، جس کے بعد وہاں ایک ہفتے تک خصوصی صفائی مہم چلائی گئی۔
آس پاس کے علاقوں میں برڈ فلو کی تصدیق ہونے کے بعد، مقامی باشندوں کے ذہنوں میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا پرندوں کی موت کی وجہ ’ایویئن انفلوئنزا‘ کا ایک اور معاملہ ہے یا کوئی اور وجہ ہے۔ فی الحال بھاگلپور میں تناؤ کی کیفیت برقرار ہے اور شہری انتظامیہ کے اگلے اقدامات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور لیبارٹری کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔





































