بھارت: 24 خواجہ سراؤں کی ایک ساتھ خودکشی کی کوشش، ہسپتال منتقل – World

AhmadJunaidJ&K News urduOctober 18, 2025363 Views



بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں خواجہ سرا کمیونٹی نے حریف گروپ سے تنازع کے بعد فینائل پی لیا، جس کے بعد کم از کم 24 خواجہ سراؤں کو ہسپتال داخل کرایا گیا ہے، بھارتی میڈیا نے واقعے کو اجتماعی خودکشی کی کوشش قرار دے دیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ بدھ کی رات پیش آیا اور واقعے کے فوراً بعد تمام افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔

مہاراجہ یشونت راؤ ہسپتال کے سپرنٹنڈنٹ اِن چارج ڈاکٹر بسنت کمار نِنگوال کے مطابق خواجہ سراؤں نے دعویٰ کیا کہ ان سب نے ایک ساتھ فینائل پیا لیکن اس کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام خواجہ سراؤں کی حالت اس وقت خطرے سے باہر ہے لیکن یہ واضح نہیں ہو سکا کہ خواجہ سرا افراد نے اجتماعی طور پر یہ قدم کیوں اٹھایا۔

دوسری جانب، دی ہندو نے رپورٹ کیا کہ یہ واقعہ ایک حریف گروپ کی لیڈر اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ جھگڑے کے بعد پیش آیا۔

اندور کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آف پولیس (کرائم) راجیش ڈنڈوتیہ نے میڈیا کو بتایا کہ حریف گروپ کی لیڈر کو بروز جمعرات گرفتار کر لیا گیا، اور اس کے ساتھ 3 دیگر ساتھیوں کے خلاف حملے اور بھتہ خوری کے الزامات میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق کمیونٹی کے 2 گروپوں کے درمیان تنازع تھا، جب متاثرہ فریق نے کمیونٹی کانفرنس کے لیے جمع کیے گئے چندے میں سے رقم مانگی، تو حریف لیڈر اور اس کے ساتھیوں نے مبینہ طور پر انہیں دھمکایا اور مارا پیٹا، جس کے نتیجے میں انہوں نے اپنی جان لینے کی کوشش کی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ منگل کو ایک الگ ایف آئی آر بھی درج کی گئی تھی، جب ایک خواجہ سرا خاتون نے الزام لگایا کہ دو مردوں نے خود کو صحافی ظاہر کرتے ہوئے اسے بلیک میل، دھمکی اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

دی پرنٹ کے مطابق پولیس افسر راجیش ڈنڈوتیہ نے بتایا کہ یہ دونوں افراد خود کو صحافی ظاہر کرتے ہوئے جون 2025 میں نندلال پورہ میں ہونے والی خواجہ سرا کمیونٹی کی ایک تقریب میں گئے اور وہاں بلیک میل کرتے رہے۔

متاثرہ خواجہ سرا نے بتایا کہ دونوں افراد خود کو صحافی ظاہر کرتے تھے اور دھمکی دیتے تھے کہ اگر انہوں نے بات نہ مانی تو انہیں بدنام کیا جائے گا یا ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی جائے گی جیسا کہ ان کے گروؤں کے ساتھ ہوا تھا، بعد ازاں، 12 جون کو ملزمان ڈیرے پر پہنچے اور جسمانی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔

رپورٹ کے مطابق ملزمان کے خلاف ٹرانس جینڈر پروٹیکشن ایکٹ 2019 کی دفعہ 18 اور دھمکانے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ کمیونٹی کے دیگر اراکین بھی ہسپتال پہنچ گئے اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا، ایک رکن نے دھمکی دی کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ اپنی جان لے لیں گی۔

رپورٹ کے مطابق خواجہ سراؤں نے ہسپتال میں مٹی کا تیل چھڑک کر خودکشی کی کوشش بھی کی، تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کر کے اسے ناکام بنا دیا۔

اگرچہ بھارت کی سپریم کورٹ نے 2014 میں ایک تاریخی فیصلے کے ذریعے خواجہ سرا افراد کو تیسری جنس کے طور پر قانونی شناخت دے دی تھی، مگر اس کے باوجود ان میں سے اکثر جنسی کام، بھیک مانگنے یا معمولی مزدوری پر انحصار کرتے ہیں۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...