
موسیقار اتم سنگھ نے اپنے تاثرات میں کہا کہ آشا بھوسلے کا جانا موسیقی کے ایک روشن باب کے اختتام کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق پہلے لتا منگیشکر کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا تھا، اب آشا بھوسلے کے جانے سے وہ مزید گہرا ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی آوازیں صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں اور ان کی کمی کبھی پوری نہیں ہو سکتی۔
رکن پارلیمنٹ اروند ساونت نے کہا کہ آشا بھوسلے اور لتا منگیشکر کے گیت نسلوں تک لوگوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔ انہوں نے ان کے جدوجہد بھرے سفر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ذاتی اور پیشہ ورانہ مشکلات کے باوجود انہوں نے اپنی فنکاری کو ہمیشہ بلند رکھا۔






