بنگلہ دیش کے انتخابات میں اقلیتوں اور خواتین کی سیاست…سوربھ سین

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 8, 2026363 Views


بی این پی کی نیشنل الیکشن کمیشن کمیٹی کے ترجمان مہدی امین نے رحمٰن کے بیانات کو خواتین کے خلاف کھلی نفرت کا اظہار قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ہماری خواتین محنت اور پسینہ بہا کر اشیا تیار کرتی ہیں اور ملک کے لیے زرمبادلہ کماتی ہیں۔ بنگلہ دیش کی ٹیکسٹائل صنعت کی عالمی کامیابی میں خواتین کا بنیادی کردار ہے۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ رحمٰن کے بیانات انتخابات میں جماعت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ڈھاکہ کے ایک صحافی نے یاد دلایا کہ 2001 میں بیگم خالدہ ضیاء کی حکومت میں شامل ہونے میں جماعت کو کوئی ہچکچاہٹ نہیں تھی۔

اسی دوران بنگلہ دیش کے سماجی تحقیقاتی ادارے انوویژن کنسلٹنگ نے 30 جنوری کو ’پیپلز الیکشن پلس سروے‘ کا تیسرا مرحلہ جاری کیا۔ سروے کے مطابق بی این پی دیگر جماعتوں پر اپنی برتری مضبوط کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسے نہ صرف اپنے روایتی حامیوں کی حمایت حاصل ہے بلکہ وہ ان ووٹروں کو بھی اپنی طرف متوجہ کر رہی ہے جو پہلے جماعت یا این سی پی کی جانب مائل تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ عوامی لیگ کے کچھ ووٹروں کو بھی راغب کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے۔ تاہم سروے میں شامل تقریباً 30 فیصد افراد کی ترجیحات واضح نہیں ہو سکیں، جس کا مطلب ہے کہ جماعت سے بی این پی کی جانب ممکنہ ووٹوں کا جھکاؤ واپس بھی پلٹ سکتا ہے۔

مضمون نگار سوربھ سین کولکاتا میں مقیم مصنف اور تجزیہ کار ہیں)

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...