
رپورٹ کے مطابق، خالدہ ضیاء کی نمازِ جنازہ ڈھاکہ کے مانک میاں ایونیو میں ادا کی گئی، جہاں ہزاروں کی تعداد میں شہری، پارٹی کارکنان اور سیاسی شخصیات جمع ہوئیں۔ نمازِ جنازہ کے بعد ان کی میت کو شیرِ بنگلہ نگر کے چندریما اُدیان لے جایا گیا، جہاں انہیں ان کے شوہر اور سابق صدر ضیاء الرحمٰن کی قبر کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا۔ اس موقع پر فضا سوگوار رہی اور عوام نے خاموشی کے ساتھ اپنی رہنما کو آخری سلام پیش کیا۔
جنازے کے موقع پر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے قائم مقام چیئرمین اور ان کے بڑے بیٹے طارق رحمٰن بھی موجود رہے۔ انہوں نے نمازِ جنازہ سے قبل مختصر خطاب میں اپنی والدہ کی سیاسی جدوجہد، جمہوریت کے لیے قربانیوں اور عوامی خدمت کو یاد کیا۔ مجمع نے ان کے خطاب کو خاموشی اور توجہ کے ساتھ سنا، جس سے اس موقع کی سنجیدگی مزید نمایاں ہو گئی۔





