بنگلہ دیش میں آئینی اصلاحات، ریفرنڈم اور مشکلات…سوربھ سین

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 22, 2026358 Views


ڈیجیٹل بلیک آؤٹ اور 2024 کی عوامی بغاوت کے پس منظر میں بلا تعطل انٹرنیٹ تک رسائی کو بنیادی حق قرار دیا گیا ہے، جبکہ ذاتی معلومات کے تحفظ کو بھی آئینی ضمانت دی گئی ہے۔

دو تہائی اکثریت رکھنے والی بی این پی کا مؤقف ہے کہ وہ ایسے چارٹر پر عمل درآمد کی پابند نہیں جو اس کے تحفظات کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔ پارٹی نے خاص طور پر ایوانِ بالا کے لیے متناسب نمائندگی کے نظام پر اعتراض کیا ہے، کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ اس سے بڑی جماعتوں کا مینڈیٹ کمزور ہوگا۔ بعض طلبہ رہنماؤں اور کارکنوں نے بھی اسے ’سیاسی سمجھوتہ‘ قرار دے کر تنقید کی ہے۔ مزید برآں، عوامی لیگ کو مشاورتی عمل سے باہر رکھنا بھی آئینی جامعیت کے اصول کے منافی سمجھا جا رہا ہے۔

سابق سفیر محمد ہمایوں کبیر کے مطابق 17 فروری کا بحران ٹالا جا سکتا تھا، کیونکہ اس سے کوئی مثبت پیغام نہیں گیا۔ بظاہر اختلاف وقتی طور پر کم ہوا ہے، مگر پارلیمنٹ میں بی این پی کی اکثریت کے باوجود آئینی نفاذ کے دوران سیاسی خلیج مزید گہری ہونے کا اندیشہ برقرار ہے۔

(مضمون نگار سوربھ سین کولکاتا سے تعلق رکھنے والے آزاد مصنف اور سیاسی، انسانی حقوق و خارجی امور کے تبصرہ نگار ہیں)

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...