2 دیگر الیکشن کمشنرز کے ساتھ 2 روزہ دورے (9-10 مارچ) پر کولکاتا آنے والے چیف الیکشن کمشنر آف انڈیا گیانیش کمار کا نہ صرف ہوائی اڈے پر بلکہ راجارہاٹ کے نیو ٹاؤن واقع ’دی ویسٹن کولکاتا راجارہاٹ ہوٹل‘ جاتے وقت بھی کالے جھنڈوں سے استقبال کیا گیا۔ یہ ہوٹل بہار نژاد ایک مارواڑی تاجر خاندان کی ملکیت ہے اور اسے کئی مرکزی وزرا، بی جے پی لیڈران اور مختلف وزرائے اعلیٰ کی سرپرستی حاصل ہے۔
ابھشیک بنرجی نے سوال اٹھایا کہ شہر میں 5000 سے زیادہ ہوٹل ہونے کے باوجود کیا اسے محض اتفاق سمجھا جائے کہ انتخابی کمشنرز نے قیام کے لیے یہی ہوٹل منتخب کیا؟ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بھی الیکشن کمیشن آف انڈیا پر گڑبڑی پیدا کرنے کا الزام لگایا اور آخری ووٹر لسٹ کے خلاف دھرنا دینے کی دھمکی دی، جس میں 60 لاکھ سے زیادہ ووٹرس کو ’زیرِ غور‘ کے طور پر درج کیا گیا ہے۔
زبانی جنگ اس وقت سنگین رخ اختیار کرتی دکھائی دی جب کمیشن کی مکمل بنچ کے ساتھ میٹنگ میں مدعو کیے گئے ضلع مجسٹریٹس اور پولیس سپرنٹنڈنٹس کو سیاسی آقاؤں کو معلومات دینے کے لیے ریاستی سکریٹریٹ نبنّا طلب کیا گیا۔ یہ بات چیف الیکشن کمشنر کو ناگوار گزری اور انہوں نے افسران کو خبردار کیا کہ یہ سب برداشت نہیں کیا جائے گا، اور اگر رویہ نہ بدلا تو مئی میں ہونے والے انتخاب کے بعد انہیں اس کے نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے بھی پلٹ کر سوال کیا کہ کیا مئی کے بعد بھی چیف الیکشن کمشنر اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے؟
مغربی بنگال اسمبلی کی مدت کار 7 مئی کو ختم ہو رہی ہے اور انتخاب اس سے قبل کرائے جانے ہیں۔ بی جے پی، سی پی آئی (ایم) اور کانگریس سمیت بیشتر سیاسی پارٹیوں نے 294 رکنی اسمبلی کے انتخابات ایک یا دو مرحلوں میں کرانے کا مطالبہ کیا تھا، جس پر مہر لگا دی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال میں انتخاب 2 مراحل 23 اپریل اور 29 اپریل کو کرانے کا اعلان کیا ہے۔ حالانکہ 5 سال قبل یہاں 8 مراحل میں ووٹنگ ہوئی تھی۔
خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر)، منطقی بے ضابطگیوں اور مائیکرو مبصرین کے حوالے سے جاری تعطل سپریم کورٹ آف انڈیا کی 10 مارچ کی ہدایت کے بعد عارضی طور پر رک گیا، جس میں ’زیر غور‘ قرار دیے گئے افراد کی حیثیت طے کرنے کے لیے اپیلیٹ ٹریبونل بنانے کا حکم دیا گیا تھا۔ دھرنا ختم کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ ’’راستہ کسی حد تک کھل گیا ہے۔‘‘
مغربی بنگال، اڈیشہ اور جھارکھنڈ کے عدالتی افسران سپریم کورٹ کے حکم کے بعد دعوؤں کی تصدیق میں مصروف ہیں، لیکن فی الحال ’زیر غور‘ قرار دیے گئے 60 لاکھ ووٹرس کا مستقبل غیر یقینی بنا ہوا ہے۔ گیانیش کمار نے اعلان کیا کہ 10 مارچ تک عدالتی افسران کی طے کردہ فہرست سے 10.6 لاکھ نام ’کلیئر‘ کیے جا چکے تھے، لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ آیا وہ سب ووٹ ڈال سکیں گے یا نہیں۔ اس کے علاوہ مزید 50 لاکھ ووٹرس کی منظوری باقی ہے۔ یہ اعداد و شمار 1.67 کروڑ سماعتوں سے حاصل ہوئے ہیں جن میں 1.36 کروڑ ’منطقی بے ضابطگیاں‘ اور 31 لاکھ ایسے ووٹرس شامل ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا نام 2002 کی ووٹر لسٹ میں درج نہیں تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ان میں سے کتنے اب ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر کا کہنا ہے کہ ’’مغربی بنگال کی عدالتی طور پر منظور شدہ ووٹر لسٹ میں عدالت کی طرف سے منظور شدہ ہر شخص کو حتمی ووٹر لسٹ میں شامل کیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ جن ووٹرس کو اب بھی مسائل کا سامنا ہے وہ ہندوستانی شہریت کے ثبوت کے ساتھ فارم 6 جمع کر کے اپنا نام درج کرا سکتے ہیں۔ تاہم اپیلیٹ ٹریبونل کے قیام، ان کے طریقۂ کار اور یہ کہ کیا انتخابات سے پہلے تمام اپیلوں کا فیصلہ ممکن ہو سکے گا یا نہیں، ان سب امور پر اب بھی غیر یقینی برقرار ہے۔ البتہ الیکشن کمیشن کی میڈیا بریفنگ میں بار بار پوچھے گئے 2 سوالوں کا کوئی جواب نہیں ملا:
-
ایس آئی آر کے دوران ریاست میں کتنے بنگلہ دیشی، درانداز اور روہنگیا پکڑے گئے؟
-
اور یہ کہ جن ووٹرس نے پہلے ہی مردم شماری کے فارم بھر دیے تھے، ضروری دستاویزات پیش کر دی تھیں، جن کی جسمانی تصدیق ہو چکی تھی اور جو سماعت میں حاضر ہوئے تھے، وہ اب بھی ’زیر غور‘ کیوں تھے؟
ان سوالوں کے جواب میں گیانیش کمار صرف مسکرا کر رہ گئے۔ آل انڈیا ترنمول کانگریس مسلسل یہ الزام لگاتی رہی ہے کہ الیکشن کمیشن اور بی جے پی کے درمیان ناپاک گٹھ جوڑ ہے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ ایس آئی آر کا عمل جانبدارانہ ہے اور اس سے ترنمول کے حامی ووٹرس (یعنی مسلم اور پسماندہ طبقات) کو فہرست سے نکالنے کا فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔ ٹی ایم سی لیڈر کنال گھوش نے کہا کہ ’’بی جے پی کو بنگال میں لوگوں کا حقِ رائے دہی چھیننے اور انہیں محروم کرنے میں خوشی ملتی ہے۔‘‘
سی پی آئی (ایم) جعلی ووٹرس کو ہٹانے کے حق میں ہے، لیکن کمیشن کے اختیارات کے غلط استعمال کی مخالف ہے۔ ریاستی سکریٹری محمد سلیم نے کہا کہ ’’ہم ایس آئی آر کے خلاف نہیں بلکہ اس کے غلط استعمال کے خلاف ہیں، جس کے ذریعہ کسی بھی برادری کے حقیقی ووٹرس کے نام حذف کیے جا سکتے ہیں۔‘‘ دوسری طرف کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے معمولی بے ضابطگیوں کو بنیاد بنا کر لوگوں کو ووٹنگ کے عمل سے باہر کرنے پر تشویش ظاہر کی۔
اس درمیان مالدہ ضلع و سیشن کورٹ کے وکیل انوارالحق نے تصدیق کی کہ ضلع سب رجسٹرار دفتر نے ’زیر غور‘ افراد سے متعلق جائیدادوں کی رجسٹریشن روک دی ہے، حالانکہ ضلع مجسٹریٹ نے ایسے کسی حکم سے انکار کیا۔ مالدہ کے سنی پارک کے رہائشی ایس کے اسیرالدین نے بتایا کہ ان کی زمین کی فروخت اس لیے روک دی گئی کیونکہ خریدار کا نام ’زیر غور‘ فہرست میں تھا۔
یہ واقعہ ان 60 لاکھ ووٹرس کو درپیش ممکنہ مشکلات کا اندازہ لگانے کے لیے کافی ہے۔ افواہوں کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹنگ کے حق سے محروم کیے گئے افراد کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جا سکتے ہیں اور انہیں موبائل فون رکھنے، لین دین کرنے یا جائیداد کی رجسٹریشن سے بھی روکا جا سکتا ہے۔ کولکاتا کے ایک بی ایل او ابھیجیت بھٹاچاریہ کہتے ہیں کہ ’’میرے پاس لوگوں کے فون آتے ہیں جو پوچھتے ہیں کہ ان کا نام حتمی فہرست میں کیوں نہیں ہے۔ کچھ لوگ روتے ہیں اور کچھ تو پہلی ضمنی فہرست میں نام شامل کروانے کے لیے قیمت دینے کو بھی تیار ہیں۔‘‘ ان کے مطابق بیشتر لوگ حقیقی ہیں لیکن انہیں ’منطقی بے ضابطگی‘ یا ’غلط میپنگ‘ کی وجہ سے نشان زد کر دیا گیا ہے، جس کے لیے عموماً کمیشن کے اپنے ایپس، اس کا الگوردم یا عملے کی غلطیاں ذمہ دار ہوتی ہیں۔
ایک دیگر بی ایل او بسودیو منڈل کو امید ہے کہ زیر التوا بیشتر نام بالآخر ضمنی فہرستوں میں شامل ہو جائیں گے کیونکہ وہ حقیقی افراد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’وقت کم ہونے کی وجہ سے افسران تمام دستاویزات کی تصدیق نہیں کر سکے، اسی لیے بڑی تعداد میں نام اس فہرست میں درج ہیں۔‘‘
ٹی ایم سی کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ’زیرِ التوا‘ فہرست سے زیادہ سے زیادہ نام ’باقاعدہ‘ فہرست میں شامل کروائے جائیں، جبکہ دوسری طرف اس عمل میں تاخیر یا قانونی پیچیدگیاں بی جے پی کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہیں۔ مالدہ کے بی جے پی لیڈر بسوجیت رائے کہتے ہیں کہ ’’انہوں نے مناسب دستاویزات جمع نہیں کرائے، اس لیے ان کے نام فہرست سے ہٹا دیے گئے ہیں۔‘‘ الیکشن کمیشن کے ایک ذرائع کے مطابق لوگوں کی آبادیاتی معلومات اور دستیاب ججوں کی تعداد کے مطابق عدالتی افسران کو مقدمات سونپے گئے ہیں۔ کچھ ججوں کو 2000 اور کچھ کو 7000 مقدمات دیے گئے ہیں، جن میں وہ منطقی بے ضابطگیوں کی جانچ کر رہے ہیں اور دستاویزات کا حتمی فہرست سے موازنہ کر رہے ہیں۔
اس عمل میں شامل ایک عدالتی افسر کے مطابق بنگال کے 600 اور دیگر ریاستوں کے 150 ججوں کے ساتھ اس عمل کو مکمل کرنے میں 90 دن سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ اس لیے امکان ہے کہ زیرِ التوا فہرست میں شامل بہت سے حقیقی ووٹرس آئندہ اسمبلی انتخاب میں ووٹ ڈالنے سے محروم رہ جائیں۔
اس دوران آل انڈیا ترنمول کانگریس نے اپنے وسیع تنظیمی نیٹورک کے ذریعہ زمینی سطح پر اپنی ایس آئی آر مہم شروع کر دی ہے۔ شائع شدہ ’حتمی‘ فہرست کے ساتھ پارٹی کارکن گھر گھر جا کر دیکھ رہے ہیں کہ وہاں رہنے والے افراد فہرست میں درج ناموں سے مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں۔ یہی تنظیمی طاقت بالآخر ووٹنگ کے دن فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اس معاملے میں بنگال میں ترنمول کانگریس تنظیمی طور پر بی جے پی سے کہیں آگے دکھائی دیتی ہے۔



































