مغربی بنگال اسمبلی انتخاب 2026 کے لیے کانگریس پارٹی نے اپنا انتخابی منشور جاری کر دیا ہے۔ پارٹی نے ایک پریس بریفنگ کے دوران بنگال کے لیے 5 گارنٹیوں کا اعلان کیا ہے۔ ان گارنٹیوں میں دُرگا سمّان، کرشک سمّان، وِدھان سواستھ سرکشا، یوا سمّان اور شکشار آلوک شامل ہیں۔ پارٹی نے کہا ہے کہ ہر گارنٹی کے لیے الگ وزارت تشکیل دی جائے گی، جو اس کے نفاذ کی ذمہ داری سنبھالے گی۔ پارٹی نے معاشی ترقی کے لیے انڈسٹریل کوریڈور بنوانے کا بھی وعدہ کیا ہے۔ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے، کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش اور بنگال ریاستی کانگریس کے انچارج غلام احمد میر نے کولکاتا میں پارٹی کا یہ انتخابی منشوری جاری کیا۔
اس موقع پر کانگریس صدر کھڑگے نے کہا کہ مغربی بنگال کی عوام کے سامنے ابھی 3 راستے ہیں۔ انھیں ان میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ترنمول کانگریس کی حکومت میں بدعنوانی لگاتار بڑھ رہی ہے۔ سبھی نے دیکھا ہے کہ یہاں کے ایک وزیر کے گھر پر کروڑوں روپے ملے۔ بی جے پی ملک میں نفرت پھیلاتی ہے، لوگوں کو مذہب کے نام پر تقسیم کرتی ہے اور پولرائزیشن سے حکومت بناتی ہے۔‘‘ کانگریس کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’’یہ پارٹی ویلفیئر، روزگار اور سسٹم ریفارمز پر کام کرتی ہے۔ ہم نے کرناٹک، تلنگانہ اور ہماچل پردیش میں جو گارنٹیاں دیں، وہ سبھی پوری کیں۔ یعنی کانگریس جو کہتی ہے، وہ کرتی ہے۔ اب بنگال کی عوام کو طے کرنا ہے کہ وہ کون سا راستہ منتخب کرنا چاہتی ہے۔‘‘
ملکارجن کھڑگے نے بنگال کی عوام سے کانگریس کو کامیاب بنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم بہت دنوں کے بعد بنگال میں سبھی سیٹوں پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کو ایک نیا متبادل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارا انتخابی منشور ’عوام کے لیے راحت‘ اور ’بنگال کی ترقی‘ کو دھیان میں رکھ کر بنایا گیا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’خواتین کو 2000 روپے ماہانہ، کسانوں کو 15000 روپے سالانہ، 10 لاکھ روپے تک ہیلتھ انشورنس، نوجوانوں کے لیے روزگار، ہر ضلع میں اے آئی سنٹر کا منصوبہ ہے۔ سب سے اہم بات، ہمارا انتخابی منشور صرف پیسہ تقسیم کرنے کی بات نہیں کرتا، یہ معیشت کی از سر نو تعمیر کرنے کی بات بھی کرتا ہے۔ یعنی ریلیف بھی، ریفارم بھی اور فیوچر بھی۔‘‘
میڈیا اہلکاروں کے سامنے کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے بھی اپنی بات رکھی۔ انھوں نے کہا کہ ’’1962 میں بنگالی فلم پر مبنی ایک سپرہٹ بالی ووڈ فلم آئی تھی، ’20 سال بعد‘۔ یہ بات میں اس لیے یاد دلا رہا ہوں، کیونکہ کانگریس 20 سال بعد یہاں اپنے دم پر لڑ رہی ہے۔ اس سے قبل ہم 2006 میں پوری طرح اپنی طاقت پر لڑے تھے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’کانگریس کا مغربی بنگال میں اپنے دَم پر لڑنا، انتخابی منشور لانچ کرنا اور تیسرا راستہ دکھانا ہمارے لیے ایک حصولیابی ہے۔ یہ ہماری پارٹی، تنظیم اور کارکنان کے لیے بوسٹر ڈوز ہے۔‘‘
کیا ہے کانگریس کی 5 گارنٹیاں؟
1. دُرگا سمان (خواتین کے لیے):
-
ہر خاتون کو ماہانہ 2000 روپے کی مالی مدد۔
-
پوسٹ گریجویشن (پی جی) تک کی تعلیم مکمل طور پر مفت۔
-
سرکاری بسوں اور گاڑیوں میں خواتین کے لیے مفت سفر کی سہولت۔
-
خواتین کی سیکورٹی کے لیے فاسٹ ٹریک کورٹ بنائے جائیں گے۔
-
خواتین کو مستفید نہیں بلکہ معیشت کا ڈرائیور مانا جائے گا۔ معیشت کو مضبوط بنانے میں وہ مکمل ساتھ نبھائیں گی۔
2. کرشک سمان (کسان فلاح):
-
چھوٹے اور بے زمین کسانوں کو سالانہ 15,000 روپے کی مدد۔
-
کسانوں کے لیے 200 یونٹ تک بجلی مفت۔
-
کسانوں کے لیے مفت بجلی کے ساتھ بہتر خریداری نظام (پروکیورمنٹ سسٹم) یقینی بنایا جائے گا، جس سے ان کی آمدنی بڑھ سکے۔
3. ودھان سواستھ سرکشا (ہیلتھ کارڈ):
-
ہر خاندان کو ’ودھان ہیلتھ کارڈ‘ دیا جائے گا۔
-
اس کے تحت 10 لاکھ روپے کا ہیلتھ انشورنس ملے گا۔
-
سرکاری خرچ پر کینسر کا مفت علاج یقینی بنانے کا وعدہ۔
-
شہریوں کو مکمل طور پر اسٹیٹ فنڈڈ صحت سہولیات دی جائیں گی، جس سے ہر شہری کو سستی اور بہتر صحت سہولت مل سکے۔
4. یووا سمان (روزگار کی گارنٹی):
-
حکومت بننے کے ایک سال کے اندر تمام خالی سرکاری عہدے بھرے جائیں گے۔
-
نوجوانوں کو لازمی انٹرن شپ کے مواقع دیے جائیں گے۔
5. شِکشا ر آلوک (تعلیم اور ہنر):
-
گریجویشن تک کی تعلیم مکمل طور پر مفت ہوگی۔
-
ریاست کے تمام اضلاع میں اے آئی پر مبنی اسکل ڈیولپمنٹ سینٹر قائم کیے جائیں گے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


































