رمضان المبارک کا مہینہ بڑی عظمتوں اور برکتوں والا ہے۔ اگرچہ اس ماہِ مقدس کی ہر ساعت قیمتی ہے، لیکن ’افطار کے وقت‘ کو ایک خاص روحانی اہمیت حاصل ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب ایک مومن دن بھر کی پیاس، بھوک اور نفس کی خواہشات پر قابو پانے کے بعد اپنے رب کے حکم کی تعمیل میں دسترخوان پر بیٹھتا ہے تو وہ منظر بڑا خوشنما ہوتا ہے۔ اس وقت شکر و بندگی کی کیفیات سے دل لبریز ہوتا ہے اور یہ لمحہ بندے اور اس کے خالق کے درمیان ایک خاص تعلق کی تجدید بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افطار بندے اور خالق کے درمیان قربت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
افطار کی فضیلت:
لغت میں ’افطار‘ کے معنی روزہ کشائی کے ہیں (القاموس الوحید) اور شریعت میں مغرب کی اذان کے وقت روزہ کھولنے کو افطار کہا جاتا ہے۔ ایک روزہ دار کے لیے افطار کا لمحہ انتہائی خوشی اور انبساط کا وقت ہوتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے مروی ہے کہ ’’روزہ دار کو 2 خوشیاں حاصل ہوں گی: (ایک جب) وہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور (دوسرا) جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو اپنے روزے کا ثواب حاصل کر کے خوش ہوگا۔‘‘ (بخاری 1904)
مزید برآں، روزہ دار کے لیے افطاری میں جلدی کرنا سنت اور مستحب قرار دیا گیا ہے۔ نیز افطار میں جلدی کرنا دین کی بالا دستی اور اہل کتاب کی مخالفت کا ذریعہ ہے۔ افطار میں جلدی کرنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وقت سے پہلے افطار کر لیا جائے، بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ جیسے ہی سورج غروب ہو جائے، افطار کر لینا چاہیے۔ اس کے لیے اذان کا انتظار کرنا ضروری نہیں، کیونکہ افطار کے لیے صرف غروبِ آفتاب شرط ہے، اذان نہیں۔
روزہ… اللہ اور بندے کے درمیان ایک راز:
روزہ اللہ اور بندے کے درمیان ایک راز ہے۔ جب سورج غروب ہونے کے قریب ہوتا ہے اور افطار کا وقت آتا ہے، تو روزہ دار کے سامنے دنیا کی تمام نعمتیں موجود ہوتی ہیں، لیکن وہ ایک گھونٹ پانی بھی اپنے حلق سے نیچے نہیں اتارتا۔ یہ عمل اس بات کی گواہی ہے کہ بندہ اپنے رب کی نگرانی کو محسوس کر رہا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کے سامنے بندے کے صبر و استقامت پر فخر کرتا ہے۔ روزہ انسان کو صبر، برداشت اور خود احتسابی سکھاتا ہے اور افطار اس صبر کی تکمیل کا لمحہ ہے۔ بندہ اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ اس نے اللہ کے حکم پر دن گزارا اور اب اسی کے حکم سے روزہ کھول رہا ہے۔ یہ اطاعت اور بندگی کی عملی تصویر ہے۔
دعا کی قبولیت کا وقت:
افطاری کا وقت نہایت بابرکت اور دعا کی قبولیت کا وقت ہوتا ہے۔ کیونکہ جب ایک انسان اپنے سامنے طرح طرح کے عمدہ کھانے رکھ کر بیٹھتا ہے اور اللہ کے حکم کی تعمیل میں غروب آفتاب کا انتظار کرتا ہے اور اس حال میں اپنے رب کے حضور دست سوال دراز کرتا ہے تو ایسے وقت میں ان شاء اللہ اس کی دعا ضرور قبول کی جائے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ’’3 بندے ایسے ہیں جن کی دعا رد نہیں کی جاتی– ان میں سے ایک روزہ دار ہے، یہاں تک کہ وہ افطار کر لے۔‘‘ (ترمذی 3598، حدیث حسن ہے)
افطار کے وقت انسان اپنی عاجزی کی انتہا پر ہوتا ہے۔ دن بھر کی نقاہت اسے یہ احساس دلاتی ہے کہ وہ اپنے رب کا کتنا محتاج ہے۔ جب وہ لرزتے ہاتھوں اور نم آنکھوں کے ساتھ اللہ کے سامنے اپنی حاجتیں رکھتا ہے، تو خالق اور مخلوق کے درمیان موجود تمام پردے ہٹ جاتے ہیں۔ یہ قربت اسے دنیاوی فکروں سے آزاد کر کے سکونِ قلب عطا کرتی ہے۔ افطار کے وقت ایک خاص روحانی سکون محسوس ہوتا ہے، گویا بندہ اپنے رب کے قریب ہو جاتا ہے۔ دن بھر کی عبادت کے بعد یہ لمحہ اللہ کی رحمت کے نزول کا احساس دلاتا ہے۔ یہ کیفیت انسان کے ایمان کو تازگی بخشتی ہے اور اس کے دل میں اللہ کی محبت کو مضبوط کرتی ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق افطار کے وقت کی دعا کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اس گھڑی میں دل نرم، روح منکسر اور آنکھیں شکریہ کے جذبات سے نم ہوتی ہیں۔ یہی کیفیت دعا کی قبولیت کا دروازہ کھولتی ہے۔ بندہ اپنی حاجات، اپنی غلطیوں کی معافی اور اپنی آئندہ زندگی کی بہتری کے لیے اپنے رب کے حضور دستِ دعا بلند کرتا ہے۔
افطار کا دسترخوان:
افطار کا دسترخوان ہمیں نعمتوں کی قدر سکھاتا ہے۔ وہ پانی جس کی عام دنوں میں ہم پروا نہیں کرتے، افطار کے وقت قدرت کا سب سے بڑا تحفہ معلوم ہوتا ہے۔ یہ احساس بندے کے اندر شکرگزاری کی صفت پیدا کرتا ہے۔ جب انسان’اَللّٰہُمَّ لَکَ صُمْتُ‘ (اے اللہ! میں نے تیرے ہی لیے روزہ رکھا) کہتا ہے، تو وہ اپنی پوری ہستی کو اللہ کے سپرد کر دیتا ہے۔ افطار کا پہلا گھونٹ یا پہلا لقمہ انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ روزمرہ کی نعمتیں کتنی قیمتی ہیں۔ ایک دن کی بھوک انسان کو اُن لوگوں کا درد سمجھاتی ہے جو مستقل فاقہ کشی کا شکار ہوتے ہیں۔ یوں افطار انسان کے اندر شکر اور ہمدردی کے جذبات کو بیدار کرتا ہے۔
افطار اجتماعی خوشی کا مظہر:
افطار صرف انفرادی عبادت نہیں بلکہ اجتماعی خوشی بھی ہے۔ جب خاندان کے افراد یا مساجد میں اجنبی لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر افطار کرتے ہیں، تو اسلامی مساوات کا خوبصورت منظر پیش ہوتا ہے۔ دوسروں کو افطار کرانے کا عمل بندے کو اللہ کے قریب تر کر دیتا ہے کیونکہ اللہ اپنی مخلوق سے محبت کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
افطار کا ایک پہلو معاشرتی بھی ہے۔ جب خاندان اور معاشرہ مل کر افطار کرتے ہیں، مساجد میں دسترخوان بچھتے ہیں، اور لوگ ایک دوسرے کو کھانا کھلاتے ہیں تو اس سے محبت، اتحاد اور مساوات کا پیغام ملتا ہے۔ امیر و غریب ایک ہی صف میں بیٹھ کر اللہ کی نعمتوں سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ اس لیے ہمیں اس بات کا اہتمام کرنا چاہئے کہ ہم اہل خانہ کے ہمراہ غروب آفتاب سے کم از کم 15 منٹ پہلے دسترخوان پر بیٹھ جائیں اور رب ذوالجلال سے خوب دعا و مناجات کریں، تاکہ ہم ہر قسم کی خیر سے فیضیاب ہوں اور ہماری تمام دعائیں قبول ہو جائیں۔
خلاصۂ کلام یہ کہ افطار کا لمحہ ایک روحانی تربیت گاہ ہے۔ یہ لمحہ بندے کو اس کے خالق کی قدرت، رحمت اور محبت کا احساس دلاتا ہے۔ افطار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی اصل کامیابی اللہ کی رضا میں ہے اور ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ اگر ہم افطار کے ان لمحات کو غفلت کے بجائے ذکر الٰہی اور دعا میں گزاریں، تو یہ ہماری زندگیوں میں ایک عظیم انقلاب لا سکتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں پیاس بجھتی ہے، رگیں تر ہوتی ہیں اور اجر ثابت ہو جاتا ہے۔
(مضمون نگار امارت شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ سے منسلک ہیں)
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

































