
اپنے بیان کے آخری حصے میں پون پانڈے نے پورے واقعہ کو افسوسناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے اتنے سالوں بعد بھی اگر کمیونٹی کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ اپنا دکھ درد بھی نہیں بانٹ سکتے تو یہ جمہوریت کے لیے شرمناک ہے۔ انہوں نے برہمن ممبران اسمبلی سے اپیل کی کہ اگر ان کے اندر ذرا بھی عزت نفس باقی ہے تو وہ اپنے حقوق اور مراعات کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ پون پانڈے نے کہا کہ غم اور درد ظاہر کرنے پر ڈانٹنا اور بے عزت کرنا انتہائی قابل مذمت ہے۔ انہوں نے اس سیاست کو لعنت بتاتے ہوئے کہا کہ آگے کا فیصلہ ممبران اسمبلی خود سمجھداری سے کریں۔






