
برطانیہ میں اس وقت سیاسی اور سماجی فضا ایک بڑی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے اور یہ تبدیلی زیادہ تر پناہ، امیگریشن اور قومی شناخت کے سوال کے گرد مرکوز ہے۔ اسی بدلتے منظرنامے میں شابانہ محمود کا ابھرتا ہوا کردار خصوصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ شابانہ محمود کی عمر 45 برس ہے، وہ پیشے کے اعتبار سے بیرسٹر ہیں اور اب برطانیہ کی وزیر داخلہ ہونے کے ساتھ ساتھ حکمراں لیبر پارٹی میں نئی قیادت کی علامت بھی سمجھی جا رہی ہیں۔ وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے 5 ستمبر کو انہیں اس اہم منصب پر فائز کیا اور اسی لمحے سے وہ غیر قانونی تارکین وطن، پناہ کے غیر منظم دعووں اور امیگریشن کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات کے ساتھ سامنے آتی دکھائی دے رہی ہیں۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران پناہ اور امیگریشن دونوں معاملات برطانیہ کے کنٹرول سے باہر رہے ہیں۔ یہی وہ خلا تھا جس نے نہ صرف عوامی بے چینی کو بڑھایا بلکہ انتہائی دائیں بازو کی جماعت رِیفارم یو کے کے لیے سیاسی راستہ بھی ہموار کیا۔ اس جماعت کی انتخابی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہوا اور سفید فام مزدور طبقے میں مقامی شناخت اور اجنبیت کے احساسات نے شدت اختیار کر لی۔ اس فضا کا سب سے زیادہ اثر ایشیائی اور افریقی پس منظر رکھنے والی آبادی پر پڑ رہا ہے، خصوصاً ان افراد پر جو نسل در نسل برطانیہ میں رہتے آئے ہیں یا قانونی انداز میں وہاں مقیم ہیں۔




