
قابل ذکر ہے کہ روس نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’سویلین ٹریڈ ہب‘ پر حملہ قرار دیا ہے اور وارننگ دی ہے کہ اس سے جنگ مزید پھیل سکتی ہے۔ حالانکہ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اثر مستقل نہیں ہوگا، کیونکہ روس اور ایران متبادل راستے تلاش کر سکتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ واضح ہو گیا ہے کہ اسرائیل اب دور دراز اور غیر متوقع علاقوں میں بھی حملہ کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے۔ اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا یہ محض ایک وارننگ تھی یا آنے والے وقت میں اس طرح کے مزید حملے دیکھنے کو ملیں گے۔






