یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب فروری 2026 میں مہاراشٹر حکومت نے 17 فروری کو ایک سرکاری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے سال 2014 کے اس پرانے آرڈیننس کو باضابطہ طور پر منسوخ کر دیا، جس کی مدت پہلے ہی ختم ہو چکی تھی اور جس پر عدالت کی طرف سے روک بھی لگائی جا چکی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف عرضی میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت کا یہ قدم آئینی اصولوں کے خلاف ہے اور مسلم برادری کے مفادات کو نقصان پہنچانے والا ہے۔
یہ عرضی ایڈوکیٹ اعجاز نقوی کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جسے مسلم برادری کے مختلف نمائندوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ درخواست میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ حکومت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے اور عبوری راحت کے طور پر ریزرویشن کو بحال رکھا جائے۔






