
اجئے ماکن نے نیشنل کلین ایئر پروگرام کے تحت خرچ کی گئی خطیر رقم پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت 19 ہزار 614 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، اس کے باوجود دہلی کی فضا گزشتہ سال کے مقابلے میں مزید 74 فیصد زیادہ آلودہ ہو گئی ہے، جو پالیسی اور عمل درآمد پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتی ہے۔
انہوں نے عالمی تحقیقی اداروں کے حوالہ سے بتایا کہ باریک ذرات یعنی پی ایم 2.5 انسانی صحت کے لیے نہایت خطرناک ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں لاکھوں اموات ان ذرات سے جڑی ہوئی ہیں، جبکہ ایک اور تحقیق کے مطابق پی ایم 2.5 میں ہر 10 مائیکروگرام اضافے سے اموات کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔





