انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 598 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی زمین عارضی طور پر اٹیچ کر لی ہے۔ یہ زمین اتر پردیش کے شہر آگرہ میں واقع ہے۔ یہ معاملہ ریئل اسٹیٹ کمپنی انسل پراپرٹیز اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ (اے پی آئی ایل) سے متعلق ہے۔ ای ڈی نے یہ تحقیقات سی بی آئی کی ایف آئی آر کی بنیاد پر شروع کی تھیں۔ یہ ایف آئی آر سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر درج کی تھی۔ الزام ہے کہ گروگرام میں زمین کے حصول اور اسے بعد میں چھوڑنے (ریلیز کرنے) کے عمل میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں کی گئیں۔
معاملہ ہریانہ کے گروگرام کے سیکٹر 58 سے 63 اور 65 سے 67 کی زمین سے جڑا ہے۔ یہ زمین پہلے عوامی مقاصد، جیسے ’ایچ یو ڈی اے‘ کے ذریعے ترقیاتی کاموں اور لینڈ بینک بنانے کے لیے حاصل کی گئی تھی۔ لیکن بعد میں مبینہ طور پر ملی بھگت سے اس زمین کو نجی بلڈروں کے حق میں ریلیز کر دیا گیا۔ ای ڈی کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ اے پی آئی ایل نے زمین کے مالکان سے ایسے وقت پر معاہدے اور جنرل پاور آف اٹارنی (جی پی اے) حاصل کیے، جب زمین پہلے ہی حصول کے لیے نوٹیفائی ہو چکی تھی۔ الزام ہے کہ کئی معاہدے مناسب ادائیگی کے بغیر کیے گئے، ضروری شرائط واضح نہیں تھیں اور بعض دستاویزات میں بعد میں تبدیلیاں کی گئیں۔
حصول اراضی کے عمل کی وجہ سے زمین کے مالکان کی سودے بازی کی قوت کم ہو گئی تھی۔ ایسی صورتحال میں مبینہ طور پر زمین مارکیٹ ریٹ سے کافی کم قیمت پر نجی کمپنیوں کو دلوائی گئی۔ اس سے کمپنی کو فائدہ پہنچا جبکہ کسانوں اور زمین کے مالکان کو نقصان ہوا۔ ہریانہ کے ٹاؤن اینڈ کنٹری پلاننگ ڈیپارٹمنٹ نے اے پی آئی ایل کو 142.306 ایکڑ زمین پر کالونی تیار کرنے کے لیے لائسنس نمبر 18/2010، 21/2011 اور 26/2012 جاری کیے تھے۔ یہ زمین گاؤں بادشاہ پور، گروگرام میں واقع تھی۔ اسی زمین پر ’ایسینشیا اور ورسالیا نامی پروجیکٹس تیار کیے گئے۔ اب یہ پروجیکٹس مکمل طور پر تیار ہو چکے ہیں اور ان کے فلیٹس یا پلاٹس تیسرے فریق کے خریداروں کو فروخت کیے جا چکے ہیں۔
چونکہ گروگرام کی زمین پر بنے پروجیکٹس فروخت ہو چکے ہیں اور وہاں عام لوگ رہ رہے ہیں، اس لیے ای ڈی نے وہاں کارروائی کرنے کے بجائے آگرہ میں موجود دوسری زمین کو اٹیچ کیا ہے۔ تحقیقات کے مطابق یہ زمین اے پی آئی ایل سے وابستہ ذیلی کمپنیوں اور افراد کے نام پر ہے، لیکن اصل کنٹرول کمپنی کا ہی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ای ڈی نے انسل پراپرٹیز اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ کے خلاف منی لانڈرنگ کے معاملے میں آگرہ میں 598 کروڑ روپے کی مالیت کی جائیداد ضبط کر لی۔

































