
عدالت نے متبادل انتظامی طریقے بھی تجویز کرتے ہوئے کہا کہ اگر ای-رکشوں کی تعداد پر کنٹرول مطلوب ہے تو سالانہ محدود تعداد میں اندراج جاری کیے جا سکتے ہیں یا غیر مجاز اور بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ کے چلنے والے رکشوں کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکتی ہے لیکن مستقل رہائش نہ ہونے کی بنیاد پر اندراج سے انکار کرنا اختیارات کا من مانی استعمال ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ہر شہری کو ہندوستان کے کسی بھی حصے میں روزگار اور کاروبار کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے، لہٰذا ایسی شرط ان کے آئینی حقوق کو متاثر کرتی ہے۔ عدالت کے اس فیصلے سے لکھنؤ سمیت پورے اتر پردیش میں ہزاروں ای-رکشہ ڈرائیوروں کو بڑا ریلیف ملنے کی امید ہے۔






