ایک ہی میچ میں 2 سپر اوور، سانسیں روک دینے والے مقابلہ میں جنوبی افریقہ نے افغانستان کو دی شکست

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 11, 2026358 Views


جنوبی افریقہ تو پہلا سپر اوور کھیلے جانے سے قبل دوسری اننگ کے 20ویں اوور میں ہی فتحیاب ہو جاتا، لیکن رباڈا کی ایک غلطی نے میچ کو دلچسپ مرحلہ میں داخل کر دیا۔

<div class="paragraphs"><p>لنگی انگیڈی، تصویر ’ایکس‘ <a href="https://x.com/ICC">@ICC</a></p></div><div class="paragraphs"><p>لنگی انگیڈی، تصویر ’ایکس‘ <a href="https://x.com/ICC">@ICC</a></p></div>

i

user

’ٹی-20 عالمی کپ 2026‘ کا 13واں مقابلہ آج جنوبی افریقہ اور افغانستان کے درمیان کھیلا گیا، جو کہ انتہائی دلچسپ اور سانسیں روک دینے والا ثابت ہوا۔ یہ میچ کبھی جنوبی افریقہ کی طرف، تو کبھی افغانستان کی طرف جھکتا دکھائی دیا۔ دلچسپ حالات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ فاتح کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک نہیں، 2 بار سپر اوور کھیلا گیا۔ ایک وقت تو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے تیسرا سپر اوور بھید یکھنے کو ملے گا، لیکن آخری گیند پر جب جیت کے لیے 5 رنوں کی ضرورت تھی، افغانستان کے بلے باز رحمن اللہ گرباز پوائنٹ پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ اس طرح شکست و فتح کے درمیان ڈگمگاتا ہوا یہ کرکٹ میچ جنوبی افریقہ کی جھولی میں چلا گیا۔

جنوبی افریقہ تو پہلا سپر اوور کھیلے جانے سے قبل دوسری اننگ کے 20ویں اوور میں ہی فتحیاب ہو جاتا، لیکن رباڈا کی ایک غلطی نے میچ کو دلچسپ مرحلہ میں داخل کر دیا۔ دراصل افغانستان کو بیسویں اوور میں فتح کے لیے 13 رنوں کی ضرورت تھی اور صرف ایک وکٹ ہاتھ میں تھے۔ بیسویں اوور کی پہلی گیند پر محمد نور کیچ آؤٹ بھی ہو گئے تھے، لیکن امپائر نے بتایا کہ یہ ’نو بال‘ ہے۔ اس ایک ’نو بال‘ کی قیمت ادا کرنے میں جنوبی افریقہ کے پسینے چھوٹ گئے۔ افغانستان سے بھی ایک غلطی ہوئی، جس کی وجہ سے میچ سپر اوور میں چلا گیا۔ آخر کی 3 گیندوں پر افغانستان کو جیت کے لیے 5 رنوں کی ضرورت تھی، اور رباڈا نے ایک بار پھر ’نو بال‘ پھینک دی، جس پر محمد نور نے دوڑ کر 2 رن بھی لیے۔ اس طرح 3 گیندوں پر 2 رنوں کی ہی ضرورت تھی اور اگلی گیند فری ہٹ بھی ملی۔ اس فری ہٹ پر نور محمد نے شاٹ مارنے کے بعد 2 رنوں کا مطالبہ کیا، لیکن فضل حق فاروقی کچھ سنٹی میٹر پیچھے رہ گئے اور میچ سپر اوور میں پہنچ گیا۔

پہلا سپر اوور انتہائی دلچسپ ثابت ہوا کیونکہ نگیڈی کی پہلی ہی 2 گیندوں پر عظمت اللہ عمرزئی نے 10 رن بنا دیے تھے۔ اگلی 2 گیندوں پر 2 سنگل آئے، اور پھر پانچویں گیند پر عظمت نے چوکا لگا دیا۔ آخری گیند پر بھی سنگل ہی آ سکا، لیکن جنوبی افریقہ کے سامنے جیت کے لیے 18 رنوں کا ہدف رکھا گیا۔ یہ آسان نہیں تھا، لیکن ڈیوالڈ بریفس نے فضل حق فاروقی کی دوسری گیند پر چھکا لگا کر جنوبی افریقہ کی امیدیں زندہ رکھیں۔ تیسری گیند پر فضل حق نے بریوس کو آؤٹ کر دیا۔ آخری 3 گیندوں پر جیت کے لیے 11 رنوں کی ضرورت تھی۔ ایک بار پھر سبھی کی دھڑکنیں تیز ہو گئی تھیں، پھر اسٹبس نے چوتھی گیند پر چوکا اور آخری گیند پر چھکا لگا کر میچ کو دوسرے سپر اوور میں دھکیل دیا۔

دوسرا سپر اوور بھی دلچسپی سے خالی نہیں تھا، کیونکہ پہلے بلے بازی کر رہی جنوبی افریقہ کے بلے باز اسٹبس نے پہلی ہی گیند پر چھکا لگا دیا۔ اگلی 2 گیندوں پر 3 رن بنے، اور پھر ڈیوڈ ملر نے چوتھی اور پانچویں گیند پر چھکا لگا کر جنوبی افریقہ کا اسکور 21 رن پہنچا دیا۔ آخری گیند پر 2 رن بنے، یعنی افغانستان کے سامنے جیت کے لیے 24 رنوں کا انتہائی مشکل ہدف رکھا گیا۔ افغانستان کی بلے بازی جب شروع ہوئی تو جنوبی افریقی اسپن گیندباز کیشو مہاراج نے پہلی 2 گیندوں پر بغیر کوئی رن دیے 1 وکٹ (محمد نبی) لے لیا، اور افغانستان کی امیدیں ایک طرح سے ختم کر دیں۔ لیکن رحمن اللہ گرباز نے تو کچھ اور ہی ارادہ کر رکھا تھا۔ انھوں نے میدان پر اترتے ہی لگاتار 3 گیندوں پر 3 چھکے لگا کر ایک بار پھر ماحول کو گرم کر دیا۔ آخری گیند پر جیت کے لیے 6 رنوں کی ضرورت تھی، اور اس دباؤ میں کیشو مہاراج نے وائیڈ گیند پھینک دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آخری گیند پر جیت کے لیے 5 رنوں کی ضرورت بچ گئی، اور چوکے کی صورت میں تیسرا سپر اوور ہوتا، لیکن مہاراج کی بہترین یارکر لائن گیند نے گرباز کو حیران کر دیا۔ گیند کو گرباز نے پوائنٹ کی طرف کھیلا، لیکن ملر نے بہ آسانی کیچ پکڑ لیا۔ اس طرح میچ بالآخر جنوبی افریقہ کی جھولی میں جا گرا، لیکن افغانستان کے کھلاڑیوں نے بھی کرکٹ شیدائیوں کو خوب محظوظ کیا۔

اس سے قبل افغانستان کے کپتان راشد خان نے ٹاس جیت کر پہلے گیندبازی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جنوبی افریقہ نے کوئنٹن ڈیکاک کے 41 گیندوں میں 59 رن اور ریان ریکلٹن کے 28 گیندوں میں طوفانی 61 رنوں کی بدولت 20 اوورس میں 6 وکٹ کے نقصان پر 187 رن بنائے۔ مارکو جانسن نے آخر میں 7 گیندوں پر 16 رنوں کی اننگ کھیلی، جو آخر میں بہت اہم ثابت ہوئی۔ ان کے علاوہ ڈیوالڈ بریوس نے 19 گیندوں پر 23 رن اور ڈیوڈ ملر نے 15 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 20 رن بنائے۔ افغانستان کی طرف سے گیندبازی میں عظمت اللہ عمرزئی نے سب سے زیادہ 3 وکٹ لیے، لیکن 4 اوورس میں 41 رن بھی خرچ کیے۔ راشد خان نے 4 اوورس میں 28 رن دے کر 2 وکٹ لیے، جبکہ فضل حق فاروقی نے 4 اوورس میں 32 رن دے کر ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

افغانستان کی طرف سے سلامی بلے بازوں نے شروعات اچھی دی تھی، لیکن جب ابراہیم زادران 12 رن کے ذاتی اسکور پر آؤٹ ہوئے تو ایک رن کے اندر مزید 2 کھلاڑی پویلین لوٹ گئے۔ 52 رن پر افغانستان کے 3 کھلاڑی آؤٹ ہو گئے تھے، جس کے بعد رحمن اللہ گرباز کو درویش رسول کا ساتھ ملا۔ دونوں کے درمیان 69 رنوں کی شراکت داری ہوئی اور گرباز 42 گیندوں پر شاندار 84 رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔ درویش رسول نے 15 رن، عظمت اللہ عمرزئی نے 22 رن اور کپتان راشد خان نے 12 گیندوں میں 20 رنوں کا تعاون کیا۔ تھوڑے تھوڑے وقفہ پر افغانستان کی وکٹیں گرتی رہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری ٹیم 19.4 اوورس میں 187 رن پر سمٹ گئی اور میچ سپر اوور میں چلا گیا۔ جنوبی افریقہ کی طرف سے لنگی انگیڈی نے سب سے زیادہ 3 وکٹ لیے اور 4 اوورس میں 26 رن ہی خرچ کیے۔ ان کی اس بہترین گیندبازی کے لیے انھیں پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ بھی دیا گیا۔ مارکو جانسن، کگیسو رباڈا، جارج لنڈے اور کیشو مہاراج کو 1-1 وکٹ حاصل ہوئے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...