
اپنے دور میں انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام پر سخت مؤقف اپنایا، پاسدارانِ انقلاب کو مضبوط کیا اور خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کو وسعت دی۔ ان کی قیادت میں ایران نے بیرونی دباؤ اور پابندیوں کے باوجود اپنے پالیسی مؤقف کو برقرار رکھا۔ حالیہ حملوں کے بعد ان کی شہادت کو خطے کی سیاست میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران میں 4روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے اور مختلف شہروں میں تعزیتی اجتماعات منعقد ہو رہے ہیں۔ مجلس خبرگان کے پاس نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کا اختیار ہے اور سیاسی حلقوں میں جانشینی کے عمل پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق ان کی شہادت نہ صرف ایران بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست پر بھی دور رس اثرات مرتب کر سکتی ہے۔






