ایک زندہ سگنل یا محفوظ ہوتی ہوئی حقیقت؟…ایف اے مجیب

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 22, 2026358 Views


ایسے میں قرآن کا پیغام پہلے سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے—کہ انسان اپنی نیت، اپنے شعور اور اپنی اندرونی دنیا کی حفاظت کرے۔ کیونکہ اگر انسان کی اصل حقیقت اس کا باطن ہے، تو سب سے بڑی ذمہ داری بھی اسی کی حفاظت ہے۔

آخرکار سوال یہ نہیں کہ قرآن سائنس سے آگے ہے یا پیچھے، بلکہ سوال یہ ہے کہ:

کیا سائنس اس حقیقت کے قریب پہنچ رہی ہے جسے قرآن نے ایک اصول کے طور پر بیان کیا تھا؟

اگر کائنات ایک منظم نظام ہے…

اگر انسان ایک شعوری اور معلوماتی وجود ہے…

اگر ہر عمل محفوظ ہو رہا ہے…

تو پھر یہ ماننا مشکل نہیں رہتا کہ ایک دن ایسا آئے گا جب یہ سب کچھ مکمل طور پر ظاہر ہو جائے گا۔

اور شاید یہی وہ لمحہ ہوگا جسے قرآن “قیامت” کہتا ہے—

جب انسان کو یہ معلوم ہوگا کہ وہ صرف ایک جیتا جاگتا وجود نہیں تھا، بلکہ ایک مکمل ریکارڈ ہوتی ہوئی حقیقت تھا۔۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...