ایک طرف امریکی صدر ٹرمپ جنگ بندی کے لیے مذاکرہ کی بات کر رہے ہیں، دوسری طرف ایران کو تباہ کرنے کی لگاتار دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ تازہ دھمکی انھوں نے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران دی ہے، جو کہ دنیا کو تشویش میں مبتلا کرنے والی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو ایک ہی رات میں پورے ایران کو تباہ و برباد کیا جا سکتا ہے، اور یہ حملہ کبھی بھی ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران طے وقت تک آبنائے ہرمز نہیں کھولتا ہے تو اس کے بجلی گھر، پل اور دوسرے ضروری ڈھانچے پر بڑے حملے کیے جائیں گے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے خالف امریکہ جنگ میں بہت اچھا کر رہا ہے۔ ایران میں گرائے گئے 2 امریکی فوجیوں کے ریسکیو کا ذکر بھی امریکی صدر نے پریس کانفرنس میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ امریکی حکومت 2 امریکی فوجیوں کو بچانے کی کامیابی کا جشن منائے گی۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کی ریسکیو سے متعلق بتایا کہ ایسے مشن عام طور پر نہیں ہوتے، لیکن اس بار اچھے لوگوں کی ٹیم اور تھوڑی قسمت سے یہ مشن کامیاب رہا۔ ٹرمپ نے اسے تاریخی آپریشن بتایا اور کہا کہ امریکی فوج اپنے کسی بھی شہری کو پیچھے نہیں چھوڑتی۔ اس مشن میں کئی لوگوں نے مدد کی۔ اس میں تھوڑی قسمت بھی ساتھ تھی اور دونوں ایئرمین بہت بہادر تھے۔ سی اے آئی نے بہت شاندار کام کیا، انھوں نے پائلٹ کو ڈھونڈ نکالا۔ یہ تنکوں کے ڈھیر میں سوئی تلاش کرنے جیسا تھا۔
امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے فوج کو حکم دیا تھا کہ پھنسے ہوئے ایئرمین کو بچانے کے لیے جو بھی ضروری ہو، وہ کیا جائے۔ بچاؤ میں فوجیوں نے بڑا جوکھم لیا، لیکن کسی کو چوٹ نہیں لگی۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ زخمی ایئرمین خون بہنے کے باوجود پہاڑ چڑھ کر اپنی لوکیشن بھیجنے میں کامیاب رہا۔ ایئرمین کو بچانے کے مشن میں 155 طیارے لگائے گئے تھے، جن میں 4 بامبر، 64 فائٹر جیٹ، 48 ریفیولنگ ٹینکر اور 13 ریسکیو طیارے شامل تھے۔ ٹرمپ کے مطابق اس آپریشن میں چالاکی بھی کی گئی تاکہ دشمن کو غلط لوکیشن کا اندازہ ہو، کیونکہ ہزاروں لوگ اس ایئرمین کو تلاش کر رہے تھے۔ وہ بہادر افسر تقریباً 48 گھنٹے تک پکڑے جانے سے بچتا رہا۔ کچھ امریکی طیاروں کو ایران میں چھوڑنا پڑا، لیکن انھیں دشمن کے ہاتھ نہ لگنے دینے کے لیے امریکہ نے انھیں خود ہی تباہ کر دیا۔ ٹرمپ نے پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ وہ اپنے فوجیوں کے اس بڑے جوکھم اور بہادری کو کبھی نہیں بھولیں گے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




































