
کئی دہائیوں تک نیپال کی سیاست تین بڑی جماعتوں کے گرد گھومتی رہی: نیپالی کانگریس، سی پی این–یو ایم ایل اور ماؤسٹ سینٹر۔ مگر اس انتخاب میں یہ تینوں جماعتیں بری طرح شکست سے دوچار ہوئیں۔ روایتی سیاست کے بڑے ناموں، جن میں شیر بہادر دیوبا اور گگن تھاپا جیسے رہنما شامل ہیں، کو یا تو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا یا وہ بہت کمزور ہو کر رہ گئے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جین-زی نے ان روایتی جماعتوں کے خلاف جمع ہونے والے عوامی غصے کو باہر نکالنے میں وہی کردار ادا کیا جو کسی پریشر ککر میں سیفٹی والو ادا کرتا ہے۔
نیپال میں سیاسی بے چینی کی تاریخ طویل ہے۔ مئی 1980 میں جمہوری اصلاحات کے مطالبے پر بڑے پیمانے پر طلبہ احتجاج ہوئے۔ اس کے بعد اس وقت کے بادشاہ بیرندر نے ایک قومی ریفرنڈم کرایا جس میں عوام کو یہ انتخاب دیا گیا کہ وہ بغیر جماعتوں کے پنچایت نظام کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں یا کثیر الجماعتی جمہوریت چاہتے ہیں۔





