
ہندوستان نے اپنے حساس بازار بھی امریکی درآمدات کے لیے کھول دیے، اور اس وقت بھی کوئی مضبوط احتجاج نہیں کیا جب بنگلہ دیش جیسے حریف ممالک کے ساتھ امریکی معاہدوں نے ہندوستانی کپاس اور ٹیکسٹائل کے لیے مشکلات پیدا کیں۔
امریکی حکام کے اشارے بتاتے ہیں کہ وہ ان شرائط کو باضابطہ دستخط سے قبل ہی پابند سمجھتے ہیں۔ 6 فروری کو جاری کردہ ’عبوری فریم ورک‘ یا مشترکہ بیان پر بھی دستخط موجود نہیں تھے۔ ایسے وقت میں جب امریکی ٹیرف کی آئینی حیثیت غیر یقینی ہے اور دیگر ممالک اپنے متبادل تلاش کر رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان کے پاس دوبارہ مذاکرات پر زور دینے کی سیاسی قوت ہے؟
یہ بھی غور طلب ہے کہ وزیر اعظم مودی اچانک ایسے یکطرفہ معاہدے پر رضامند کیوں ہوئے؟ 2025 کے بیشتر عرصے میں ہندوستان انتظار کرتا دکھائی دیا، جبکہ برطانیہ، یورپی یونین، ملائیشیا، جاپان اور ویتنام نے اپنے معاہدے طے کر لیے۔ نومبر 2025 میں امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹ نک نے معاہدے میں تاخیر پر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسئلہ صرف یہ ہے کہ مودی نے صدر ٹرمپ کو فون نہیں کیا۔






