جیفری ایپسٹین نے قریب ساڑھے چھ سال قبل 66 سال کی عمر میں نیویارک کی ایک جیل میں مبینہ طور پر خودکشی کر لی تھی۔ اس کے گھروں سے ضبط کیے گئے خطوط، تصاویر اور کاغذات کی وجہ سے وہ اب بھی خبروں میں ہے۔ جتنی پُراسرار زندگی، اتنی ہی پُراسرار موت۔ کوئی نہیں جانتا کہ اس نے دولت کیسے بنائی۔ اتنا ضرور معلوم ہے کہ اس پر سینکڑوں بچوں کے جنسی استحصال کا الزام ہے۔ 500 سے زیادہ متاثرین کی شناخت ہو چکی ہے جن کی ٹریفکنگ کی گئی۔ 30 جنوری 2026 کو امریکہ میں نئے کاغذات جاری کیے گئے جن میں کئی ہندوستانیوں کا ذکر ہے۔ ان میں 2 تو بہت خاص ہیں۔
بدنام ’ایپسٹین فائلز‘ میں ہندوستان اور ہندوستانیوں کا ذکر بھلے ہلچل مچا رہا ہو، مزے کی بات ہے کہ یہ ذکر 2014 سے شروع ہوتے ہیں، جس سال بی جے پی رکن پارلیمنٹ کنگنا رانوت کے مطابق ہندوستان آزاد ہوا تھا۔ 2014 کے بعد ایپسٹین کی ہندوستان اور ہندوستانیوں میں دلچسپی کی کیا وجہ تھی، اس کی جانچ باقی ہے۔
امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری ای میل اور کاغذات میں وزیر اعظم نریندر مودی، پیٹرولیم وزیر ہردیپ پوری اور صنعت کار انل امبانی کا ذکر مئی 2014 میں مودی کے وزیر اعظم عہدہ کی حلف برداری سے چند دن پہلے شروع ہوا۔ 16 مئی 2014 کو نتائج آنے سے چند دن پہلے ایپسٹین نے ایک ای میل میں ہندوستان آنے کی خواہش ظاہر کی تھی اور ’جیٹلی و مودی‘ کا ذکر کیا تھا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ وہ ان دونوں کو جانتا تھا یا نہیں۔ جواب میں اسے بتایا گیا کہ اسے ہندوستان آنا راس نہیں آئے گا اور گرمیوں میں نہ آنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔
ہردیپ پوری کی ایپسٹین کے ساتھ بات چیت جون 2014 میں شروع ہوئی تھی، یعنی مودی کے وزیر اعظم بننے کے چند ہی دن بعد اور ریٹائرڈ سفارت کار پوری کے جنوری 2014 میں بی جے پی میں شامل ہونے کے 6 ماہ بعد۔ فائلوں سے معلوم ہوتا ہے کہ پوری اور ایپسٹین 5 جون سے 9 جون 2014 کے درمیان 4 بار ملے تھے۔ اسی سال 26 مئی کو مودی نے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لیا تھا۔ اب تک جتنی باتیں سامنے آئی ہیں، اس سے ایسا لگتا ہے کہ ستمبر 2017 میں مودی کابینہ میں وزیر بننے کے بعد پوری کا نام فائلوں میں نہیں ہے۔
اپنے طرز عمل کا زوردار دفاع کرتے ہوئے پوری نے کہا ہے کہ وہ ایک محب وطن، دور اندیش ہندوستانی کے طور پر ایپسٹین سے مل رہے تھے، تاکہ ہندوستان میں سرمایہ کاری لانے میں مدد مانگ سکیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ 2014 میں اپنی ای میل میں انہوں نے ’ڈیجیٹل انڈیا‘ اور ’میک ان انڈیا‘ کا ذکر کیا۔ قابل غور ہے کہ یہ اسکیمیں 2015 اور 2016 میں شروع کی گئی تھیں۔ تاہم، انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ستمبر 2017 میں وزیر بننے کے بعد ایپسٹین کے ساتھ ان کی بات چیت کیوں بند ہو گئی۔ ان کی کوششوں کا کابینہ کو کیا فائدہ ملا؟ ایک ’نجی شہری‘ کے طور پر ان کی کوششوں اور ایپسٹین کے ذریعے کون سی سرمایہ کاریاں ہوئیں؟
پون کھیڑا نے پوچھا ہے کہ ’تب پوری ایک سابق سفارت کار تھے۔ وہ کس حیثیت سے ہاف مین کا ہندوستان دورہ ترتیب دے رہے تھے؟ کیا ہندوستانی سفارت خانہ بند ہو گیا تھا؟ کیا ہندوستانی سفیر وہاں نہیں تھے؟ کیا وزیر خارجہ سشما سوراج نہیں تھیں؟ نریندر مودی کو ہردیپ پوری کی خدمات کی ضرورت کیوں پڑی؟ مودی کو ریڈ ہاف مین کے دورے کے لیے ایپسٹین کی ضرورت کیوں پڑی؟‘
پبلک ڈومین میں ایسا کچھ بھی نہیں جس سے معلوم ہو کہ ایپسٹین کبھی ہندوستان آیا تھا۔ اگر وہ آتا تو ہندوستان اور امریکہ کے امیگریشن افسران کو معلوم ہوتا۔ اگر وہ پرائیویٹ جیٹ سے آتا تو سول ایوی ایشن افسران کو بھی معلوم ہوتا۔ نہ ہی پبلک ڈومین میں ایسا کچھ ہے جس سے معلوم ہو کہ ایپسٹین نے کبھی ہندوستان میں سرمایہ کاری کی ہو یا یہاں کسی کے ساتھ اتحاد کیا ہو۔ اس کے برعکس، جب انل امبانی نے لندن کورٹ میں خود کو ’دیوالیہ‘ قرار دینے کے بعد 7 کروڑ روپے جمع کرنے میں اس سے مدد مانگی، تو ایپسٹین نے جواب دیا کہ قرض ملنا مشکل ہوگا اور ان کے ’شیئر‘ شاید ’اچھے‘ نہیں تھے۔
اب تک 35 لاکھ کاغذات جاری کیے جا چکے ہیں اور 30 لاکھ جاری کیے جانے ہیں۔ پھر بھی، اب تک کے کاغذات میں ہندوستان اور ہندوستانیوں کے ذکر نے ہلچل مچا رکھی ہے۔ کئی بے چین کرنے والے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سیاسی طور پر سب سے اہم اشارہ تب آیا جب ایپسٹین نے دعویٰ کیا کہ اس نے ’مودی کے آدمی‘ کو بتایا کہ 2017 میں ہندوستانی وزیر اعظم کے پہلے اسرائیل دورے کے دوران کیا کرنا ہے۔ ایپسٹین نے دعویٰ کیا کہ اس نے ہندوستانی وزیر اعظم کو مشورہ دیا کہ اسرائیل میں قیام کے دوران امریکی صدر کے حق میں بھرپور باتیں کریں اور اس کے بارے میں یہ بھی لکھا کہ ’یہ کام کر گیا۔‘
یہ پُراسرار پیغام کئی سوالات کھڑے کرتے ہیں، جن کا جواب ملنا ابھی باقی ہے۔ مثلاً، مودی کے اسرائیل دورے میں ایپسٹین کی کیا دلچسپی تھی؟ وہ کس کے کہنے پر ہندوستان میں رہنماؤں پر نظر رکھ رہا تھا؟ سی آئی اے اور موساد کے سابق افسران جیسے قابل اعتماد ذرائع نے یہ الزام لگایا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل دونوں میں ’ڈیپ اسٹیٹ‘ کا حصہ تھا، لیکن اس کی تصدیق جلد ہونے کی امید نہیں۔
ایک اور ای میل گفتگو میں، ایپسٹین نے ’مڈل ایسٹ‘ کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ وہاں کے حالات سے خوش نہیں۔ یقیناً سیاق و سباق ابھی راز بنا ہوا ہے، لیکن یہ بھی حیران کن ہے کہ اس نے انل امبانی کے ساتھ ایسی بات کیوں کی۔ شاید اس کی درست تشریح یہی ہے کہ وہ چاہتا تھا کہ انل امبانی اس کے خیالات کو ہندوستانی ’قیادت‘ تک پہنچائیں۔
ایپسٹین کو لگتا تھا کہ امبانی ہندوستانی ’قیادت‘ کے قریب تھے اور وہ اس وقت اسٹیو بینن جیسے صدر ٹرمپ کے قریبی لوگوں سے ملنے کی کوشش انہی کے کہنے پر کر رہے تھے۔ انل امبانی نے شاید یہ دعویٰ کر کے ہندوستان میں سیاسی اقتدار سے اپنی قربت دکھانے کی کوشش کی ہوگی کہ ’قیادت‘ نے انہیں وزیر اعظم مودی کے واشنگٹن ڈی سی اور وائٹ ہاؤس دورے کو آسان بنانے اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے ملنے کے لیے کہا ہے۔
ہردیپ پوری کے ذریعہ بے گناہی کے بڑے بڑے دعووں اور ٹی وی چینلوں پر راہل گاندھی کو برا بھلا کہنے اور سچ سامنے لانے کی کوششوں نے ان کی شبیہ خراب کر دی ہے۔ چڑچڑے پوری نے ایک انٹرویو میں سوال کیا کہ ’دہشت گردوں کے رابطے میں رہنے سے کیا میں دہشت گرد بن جاتا ہوں؟‘ اس کا کیا مطلب؟ ان پر کسی نے بچوں کے ساتھ جنسی تعلقات بنانے کا الزام تو نہیں لگایا ہے!
حکومت کے خاموش کرانے سے پہلے پوری نے خود کو الجھن میں ڈالنے کا اچھا انتظام کر لیا تھا- وہ کئی بیانات ایسے دے چکے تھے، جو سوالات قائم کرتے ہیں۔ مثلاً انہیں ’معلوم نہیں تھا کہ ایپسٹین کون ہے‘، ’انہیں نہیں معلوم تھا کہ وہ کس سے ملنے جا رہے ہیں‘… انٹرنیشنل پیس انسٹی ٹیوٹ میں ان کے باس نے انہیں ایپسٹین کے پاس بھیجا تھا… وہ ایک وفد کا حصہ تھے… وہ ایپسٹین سے صرف تین چار بار ملے تھے… ہندوستان میں سرمایہ کاری کے لیے پیشکش کرنے اور ’ڈیجیٹل انڈیا کو فروغ دینے‘ کے لیے…۔ ایپسٹین کا مین ہٹن ٹاؤن ہاؤس ان کے برابر میں تھا اور وہ 8 سال سے نیویارک میں رہ رہے تھے… یہ سب پیشہ ورانہ تھا… ایپسٹین پر صرف ایک کم عمر لڑکی کے ساتھ جنسی تعلق کا الزام تھا…۔
انکار کے باوجود ای میل سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وزیر صاحب کتنی شناسائی رکھتے ہیں، جسے ماننے یا سمجھانے کو تیار نہیں ہیں۔ ایک ای میل میں پوری نے لکھا کہ ’’جب آپ اپنے انوکھے آئی لینڈ سے واپس آ جائیں، پلیز مجھے بتا دیں۔‘‘ پوری کو اس انوکھے آئی لینڈ کے بارے میں کیسے معلوم ہوا؟ اگر تب تک انہیں ایپسٹین کے ماضی اور ’پیڈو آئی لینڈ‘ کے بارے میں معلوم ہو چکا تھا تو کیا کوئی عام، پیشہ ورانہ شناسائی رکھنے والا اس کا ذکر کرتا؟ ایسا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ پوری کبھی اس آئی لینڈ پر گئے، لیکن وہ ایپسٹین کے اتنے قریب تو تھے کہ دوسرے سیاق میں اس کا ذکر کر سکیں۔
کئی کاغذات بتاتے ہیں کہ ایک دوسرے سے ’پیشہ ورانہ‘ طور پر ملنے کے چند ہی مہینوں کے اندر، پوری کو ایپسٹین کے گھر پر اکثر لنچ یا ڈنر پر بلایا جانے لگا تھا۔ جنوری 2017 میں پوری نے ایپسٹین کو لکھا ’’اگر آپ شہر میں ہیں، تو میں آپ کو اپنی کتاب، ’پیریلس انٹروینشنز‘ کی ایک کاپی دینے آنا چاہتا ہوں۔‘‘ انہوں نے مئی 2017 میں بھی ملنے کی درخواست کی۔ ستمبر 2017 میں جب پوری مرکزی وزیر بنے تو سیاق و سباق اور سلسلہ اچانک بند ہو گیا۔
ایپسٹین اور انل امبانی کے درمیان سب سے بدترین گفتگو وہ تھی جب ایپسٹین ایک ’لمبی، سویڈش گوری‘ عورت کی خدمات آفر کی۔ امبانی جواب میں لکھتے ہیں ’’ارینج کرو۔‘‘ یہ سب کیا تھا؟ کیا صنعت کار نے یہ خدمت اپنے لیے مانگی تھی، یا پھر کسی اور کے لیے؟ امبانی کچھ نہیں بول رہے ہیں، اور ہندوستان میں انہیں بولنے پر مجبور کرنے والا کوئی قانون نہیں۔ ہندوستانی تفتیشی ایجنسیاں اس معاملے میں شاید ہی کوئی جانچ شروع کریں گی، اور وزارت خارجہ یقیناً ’ایک سزا یافتہ کی بکواس باتوں‘ کو اسی بے عزتی کے ساتھ مسترد کر دے گی جس کے وہ مستحق ہیں۔
(اے جے پربل کے ساتھ وَنشیکا گپتا)
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔































