
کمیشن نے اپنے ابتدائی مشاہدہ میں کہا ہے کہ اگر رپورٹ شدہ حقائق درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ ہندوستانی آئین کے تحت شہریوں کے حقِ حیات یعنی دفعہ 21، کی واضح خلاف ورزی ہے۔ این ایچ آر سی نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاملے کی مکمل جانچ کرائے، ذمہ دار افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرے اور متاثرہ خاندانوں کو مناسب راحت فراہم کرنے کی تفصیلات پیش کرے۔
پریس انفارمیشن بیورو کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مرکزی پانی کی پائپ لائن ایک عوامی بیت الخلا کے نیچے سے گزرتی ہے، جہاں رِساؤ کے باعث سیوریج کا پانی پینے کے پانی میں شامل ہو گیا۔ اس کے علاوہ علاقے میں کئی جگہ پانی کی سپلائی لائنیں ٹوٹی ہوئی پائی گئیں، جس سے آلودہ پانی براہِ راست گھروں تک پہنچتا رہا۔






