
این ایس یو آئی کے مطابق وارانسی میں منریگا کو کمزور کرنے اور ختم کرنے کی کوششوں کے خلاف نکالے گئے اس مارچ کے دوران کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی نہیں کی گئی تھی، اس کے باوجود پولیس نے سخت کارروائی کی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ قومی صدر ورون چودھری سمیت کم از کم 35 طلبہ کو گرفتار کیا گیا، جبکہ متعدد دیگر طلبہ رہنماؤں اور کارکنوں کو ان کے گھروں میں نظر بند کر کے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا۔ پولیس کارروائی کے نتیجے میں تقریباً 100 طلبہ اور این ایس یو آئی کے عہدیدار زخمی ہوئے۔
ورون چودھری نے اپنے بیان میں کہا کہ منریگا ملک کے محروم طبقات، دلتوں، آدیواسیوں، قبائلی برادریوں اور پسماندہ طبقات کے لیے زندگی کی ایک اہم بنیاد ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت ان طبقات کے روزگار کے آئینی حق پر براہ راست حملہ کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ این ایس یو آئی اس دباؤ کے سامنے نہ جھکے گی اور نہ ہی خوفزدہ ہوگی، بلکہ ملک بھر میں جدوجہد جاری رکھے گی۔




