
تفتیشی اداروں کے مطابق یہ الزامات ہیں کہ سنہ 2019 میں ’سری کوول‘، دروازوں کے فریموں اور ’دوار پالک‘ کے مجسموں سے ملمع کاری کے لیے ہٹائی گئی سونے کی پرتیں اور زیورات مکمل طور پر مندر کو واپس نہیں کیے گئے۔ ایس آئی ٹی کو شبہ ہے کہ سونے کے ایک حصے کو جان بوجھ کر تانبا یا دیگر دھاتیں قرار دے کر غائب کیا گیا، تاکہ خرد برد کو چھپایا جا سکے۔
اس معاملے کی نگرانی کیرالہ ہائی کورٹ کر رہی ہے، جس نے اس سے قبل مندر کے اثاثوں کے سلسلے میں غیرتشفی بخش جوابدہی پر سخت تشویش ظاہر کی تھی۔ عدالت کے حکم پر ہی اس کیس کی جامع اور گہرائی سے تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا، جس کے بعد گرفتاریوں کا سلسلہ تیز ہوا۔




