
رپورٹس کے مطابق ایس آئی ٹی کی رپورٹ میں افسران کا کردار، فیصلہ لینے میں ہوئی تاخیر، لاپرواہی اور سسٹم کی ناکامی کو نمایاں طور پر درج کیا جائے گا۔ ایس آئی ٹی کی بنیادی توجہ اس بات پر ہے کہ کس سطح پر ذمہ داری طے ہوتی ہے اور کن فیصلوں یا لاپرواہیوں کے باعث حالات بے قابو ہوئے۔ ایس آئی ٹی کے ذریعہ پوچھے گئے اضافی سوالوں اور تحقیقات کی سمت سے یہ صاف اشارے مل رہے ہیں کہ ہر متعلقہ محکمے کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ رپورٹ میں معطلی، محکمانہ کارروائی اور سخت تادیبی کارروائی کی سفارش کی جائے گی۔ رپورٹ سامنے آنے کے بعد بڑے پیمانے پر انتظامی کارروائی دیکھنے کو مل سکتی ہے، جس کی وجہ سے یہ معاملے آنے والے دنوں میں مزید سرخیوں میں رہنے والا ہے۔






