ایس آئی آر معاملہ میں کانگریس کو ایک بار پھر مودی حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف حملہ کرنے کا موقع مل گیا ہے۔ اس بار مشہور انگریزی روزنامہ ’انڈین ایکسپریس‘ کی ایک رپورٹ نے ایس آئی آر کے عمل میں سنگین بے ضابطگی کا انکشاف کیا ہے، جسے کانگریس نے ’ووٹ چوری‘ کا نام دیا ہے۔ معاملہ اتر پردیش کا ہے جہاں سینکڑوں کی تعداد میں نام کاٹنے کے لیے ’فارم 7‘ جمع کیے گئے، لیکن درخواست دہندہ کو تلاش کرنے پر کچھ بھی جانکاری نہیں ملی۔
کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں ’انڈین ایکسپریس‘ کا حوالہ دیتے ہوئے ایسا ثبوت پیش کیا ہے، جو الیکشن کمیشن کو کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے۔ کانگریس نے پوسٹ کا عنوان دیا ہے ’’ایس آئی آر سے ’ووٹ چوری‘ کا کھیل۔‘‘ اس کے بعد لکھا ہے کہ ’’انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق اتر پردیش کے شاملی میں لوہاری پور گاؤں ہے۔ یہاں 14 فروری کو بی ایل او کے پاس 544 لوگوں کے نام ہٹانے کے لیے فارم جمع کیا گیا۔‘‘ پوسٹ میں یہ بھی جانکاری دی گئی ہے کہ ’’ان میں سبھی نام مسلم طبقہ سے آنے والے لوگوں کے تھے، جس میں سابق پردھان کا نام بھی شامل تھا۔‘‘
اس معاملہ میں سب سے اہم جانکاری یہ دی گئی ہے کہ نام کاٹنے کے لیے جس شخص نے فارم جمع کر درخواست کی تھی، اس کے بارے میں کسی کو معلوم ہی نہیں ہے۔ کانگریس نے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’جس نے یہ ’فارم 7‘ بھرا تھا، اس کا نام وید پال تھا۔ کمال کی بات ہے کہ پورے گاؤں میں کوئی وید پال کو جانتا ہی نہیں تھا۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی مطلع کیا گیا ہے کہ ’’جب شاملی ضلع مجسٹریٹ اروند چوہان سے اس معاملہ پر سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا- ہم ’فارم 7‘ دینے والے شخص وید پال کو ڈھونڈ نہیں پائے۔ یہ سبھی فارم نقلی تھے۔‘‘
ایس آئی آر میں بے ضابطگی کے اس سنگین معاملہ کو سامنے رکھنے کے بعد کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’سوچیے، یہ کتنی بڑی سازش ہے اور ایسی سازش صرف ایک گاؤں میں نہیں، پورے ملک میں رچی گئی ہے۔‘‘ اس واقعہ سے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کانگریس نے سخت انداز میں کہا کہ ’’صاف ہے، ایس آئی آر کے ذریعہ نریندر مودی اور الیکشن کمیشن مل کر ’ووٹ چوری‘ کا کھیل کر رہے ہیں۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


































