
خیال رہے کہ سرمائی اجلاس کے پہلے دن پیر کے روز اپوزیشن نے ایس آئی آر پر پر بحث نہ ہونے پر شدید احتجاج کیا، جس کے سبب لوک سبھا کی کارروائی کئی مرتبہ ملتوی ہوئی۔ اجلاس کے دوسرے دن بھی یہ سلسلہ جاری رہا اور ہنگامہ آرائی کے سبب لوک سبھا کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
اپوزیشن کا کہنا ہے کہ 12 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں چلائی جا رہی خصوصی گہری نظرثانی میں بڑے پیمانے پر ووٹروں کے نام حذف کیے جا رہے ہیں، جس سے انتخابی شفافیت اور عوامی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔






