
مرکز برائے اسٹریٹجک و بین الاقوامی مطالعات کے محققین کے مطابق اس حکمت عملی کے تحت ایران وقفے وقفے سے چھوٹے پیمانے کے حملے کر سکتا ہے تاکہ مخالف کے دفاعی نظام کو مسلسل دباؤ میں رکھا جا سکے۔
ادھر امریکی حکام کے مطابق جنگ کے پہلے ہفتے میں ہی امریکہ کو تقریباً چھ ارب ڈالر کے اخراجات برداشت کرنے پڑے ہیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق امکان ہے کہ امریکی انتظامیہ جنگی کارروائیوں کو جاری رکھنے کے لیے کانگریس سے مزید مالی منظوری طلب کرے گی۔
اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک تہران غیر مشروط طور پر ہتھیار نہ ڈال دے۔ دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ وہ اس جنگ میں طویل عرصے تک مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)





