امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر زوردار حملہ کر جنگ کے ایک نئے باب کا آغاز کر دیا ہے۔ ایران نے امریکہ و اسرائیل کے حملوں میں کم از کم 555 اموات کی تصدیق کی ہے، لیکن غیر مصدقہ خبروں میں یہ تعداد کہیں زیادہ ہے۔ ایران کے ذریعہ کیے گئے جوابی حملوں میں بھی کئی ہلاکتوں کی خبریں ہیں، لیکن تعداد سے متعلق فی الحال کچھ بھی مصدقہ طور پر نہیں کہا جا رہا ہے۔ سب سے دردناک نظارہ میناب میں دیکھنے کو ملا جہاں ایک گرلس اسکول امریکہ و اسرائیل کے حملوں کی زد میں آ گیا۔ اس حملہ میں کم و بیش 165 طالبات ہلاک ہو گئیں۔ اب ان کی اجتماعی تدفین کی تیاریاں چل رہی ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک صحافی رنوجے سنگھ نے جاری پوسٹ میں بتایا ہے کہ ایران میں اجتماعی قبریں تیار کی گئی ہیں، جہاں ہلاک طالبات کی تدفین عمل میں آئے گی۔ انھوں نے اجتماعی قبروں کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ایران میں وہ قبریں کھودی گئیں جن میں اسکولی بچوں (طالبات) کو دفنایا جائے گا۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے ایران کے اسکول پر بم گرایا، جس میں 165 بچوں کی موت ہو گئی۔‘‘
اجتماعی قبروں کی یہی تصویر ’اسپوتنک انڈیا‘ نے بھی اپنی ایک پوسٹ میں شیئر کی ہے۔ اس نے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ایرانی میڈیا نے ایک علامتی تصویر (اجتماعی قبروں کی) جاری کی۔ 165 قبریں تیار کی گئی ہیں، یہ میناب اسکول کی ان طالبات کے لیے ہیں جو امریکہ-اسرائیل کے ایئر اسٹرائیک میں ہلاک ہوئی ہیں۔ مہلوکین کی عمر 7 سے 12 سال کے درمیان ہے۔‘‘ پوسٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’(اس تصویر کے ساتھ) کیپشن میں لکھا گیا ہے– ایرانی عوام کے لیے ٹرمپ کا تحفہ۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

































