
ایران پر حملہ کرنے کی وجہ سے اب تک باہری تنقید اور تنہائی کا سامنا کرنے والے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اب اپنے گھر میں بھی تنہا پڑتے نظر آرہے ہیں۔ اس دوران امریکہ کے سابق انٹیلی جنس چیف لیون پنیٹا نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے حوالے سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بحران زیادہ تر ٹرمپ کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور امریکہ اب ایسی صورتحال میں پھنس گیا ہے جس سے نکلنا مشکل ہے۔
’دی گارڈین‘ سے بات کرتے ہوئے پنیٹا نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کا خطرہ نیا نہیں تھا۔ امریکی سکیورٹی ایجنسیاں طویل عرصے سے اس بات سے آگاہ تھیں کہ ایران عالمی تیل سپلائی کو متاثر کرنے کے لیے آبنائے ہرمز کو روک سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطرہ پہلے سے معلوم تھا لیکن موجودہ تنازع میں اسے نظر انداز کیا گیا۔ سی آئی اے کے سابق سربراہ کے مطابق امریکہ نے ایران کے ردعمل کو کمتر سمجھا یا یہ سمجھا کہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات بتاتے ہیں کہ تیاری میں کمی تھی اور اب اس کا اثر نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی منڈیوں پر بھی پڑرہا ہے۔
پنیٹا نے یہ بھی کہا کہ ابتدائی فوجی کارروائی نے ایران کو کمزور نہیں کیا بلکہ وہاں کا اقتدار اور طاقت مزید مضبوط ہوتے نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اب قیادت مزید سخت موقف اپنا رہی ہے، جس سے صورتحال اور بھی زیادہ پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ پنیٹا نے کہا کہ ٹرمپ کے سامنے اب دو ہی متبادل ہیں یا توپیچھے ہٹیں، جسے ناکامی مانا جائے گا یا پھر تنازع کو اور بڑھائیں جس سے حالات اور بگڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اس صورتحال کے لیے ذمہ داری ٹرمپ انتظامیہ کی ہے۔
جنگ طویل ہونے کے ساتھ ہی امریکہ میں بھی ٹرمپ انتظامیہ پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے عام لوگوں میں بے چینی دیکھی جارہی ہے۔ ایک سروے کے مطابق امریکی شہریوں کی بڑی تعداد ایران پر حملے کے فیصلے سے متفق نہیں ہے۔






