
اس تنازعہ کے دوران ایک اور دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب ایک اسرائیلی اخبار نے رپورٹ کیا کہ جے ڈی وینس نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد کے حوالے سے فون پر نیتن یاہو کو پھٹکار لگائی اور چلائے۔ وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر اس رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے اسے ’مکمل طور پر جعلی‘ بتایا ہے۔ امریکی افسران کو شبہ ہے کہ اسرائیل نے جان بوجھ کر یہ خبر جے ڈی وینس کو ’اسرائیل مخالف‘ کے طور پر پیش کرکے ان کی شبیہ خراب کرنے کے لیے پھیلائی تھی۔






