مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے 14ویں دن ایران کی راجدھانی تہران کے ’آزادی اسکوائر‘ سمیت کئی مقامات پر زوردار دھماکے ہوئے۔ ایک ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق رمضان کے آخری جمعہ (یومِ قدس) کو ایران کی راجدھانی میں امریکہ و اسرائیل کے خلاف مظاہرے ہو رہے تھے، جس میں ’اللہ اکبر‘ کے نعرے بلند کیے جا رہے تھے۔ ’آزادی اسکوائر‘ پر اس ریلی میں جمع بھیڑ اپنا احتجاج ظاہر کر رہی تھی، تبھی قریب میں ہی زوردار دھماکہ ہوا۔ اس سے افرا تفری مچ گئی اور لوگ اِدھر اُدھر بھاگنے لگے۔
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ایران کی سرکردہ قومی سیکورٹی کونسل کے سکریٹری علی لاریزانی بھی اس بین الاقوامی یومِ قدس ریلی میں شامل ہوئے تھے۔ یومِ قدس کے دوران عراق، ایران، لبنان، پاکستان سمیت کئی ممالک میں فلسطین کی حمایت میں تقاریب کا انعقاد ہوتا ہے اور تقاریر بھی ہوتی ہیں۔ تہران میں کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہو رہے تھے اور ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں دھماکے ہوئے۔ ان ریلیوں میں امریکہ و اسرائیل کے خلاف بھی نعرے بلند کیے جا رہے تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایران کے نومنتخب سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای بھی اس ریلی میں شریک ہونے والے تھے۔
خبر رساں ایجنسی ’ایسو سی ایٹیڈ پریس‘ کی رپورٹ کے مطابق دھماکہ سے عین قبل اسرائیل نے ایران پر حملے کی تنبیہ دی تھی۔ اسرائیل نے جمعہ کی نماز کے وقت تہران یونیورسٹی کے قریب ایئر اسٹرائیک کی دھمکی دی تھی، اور اس کے بعد یومِ قدس کی ریلیوں کے قریب دھماکوں نے ملک میں دہشت کے ساتھ ساتھ تشویش کے حالات بھی پیدا کر دیے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































