
اکتوبر میں تہران نے اسرائیل، امریکہ یا دیگر ممالک یا اداروں کے لیے جاسوسی کرنے والے افراد پر سخت پابندیاں عائد کیں اور ان پر “تمام اثاثوں کی ضبطی اور پھانسی” کی سزا سنائی جانے لگی۔اس سے قبل قوانین میں کسی خاص ملک کا ذکر جاسوسی کے معاملات میں نہیں ہوتا تھا اور سزا لازمی طور پر پھانسی نہیں ہوتی تھی۔






