ایران کا انقلاب اور اس کے اغوا کا خطرہ…اشوک سوین

AhmadJunaidJ&K News urduJanuary 18, 2026360 Views


ایرانی مظاہرین کے سامنے اصل چیلنج صرف موجودہ نظام کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک اور مسلط کردہ نظام کو روکنا بھی ہے۔ اس کے لیے اندرونی جبر اور بیرونی مداخلت، دونوں کی مزاحمت ضروری ہے۔ یعنی تبدیلی کی قیادت ایران کے اندر، ایرانی عوام کے ہاتھوں، جامع اور حقیقی جمہوری عمل کے ذریعے ہونی چاہیے — پگڑی اور تاج کے جھوٹے انتخاب کو مسترد کرتے ہوئے۔

مغرب کو بھی احتیاط برتنی چاہیے۔ انسانی حقوق کی حمایت، مظالم کی دستاویز سازی اور ایرانی سول سوسائٹی کو آواز دینا جائز ہے، لیکن نظام کی تبدیلی کی سازشیں، جلا وطن دعوے داروں کی سرپرستی یا فوجی دھمکیاں نہیں۔ ایسے اقدامات انہی قوتوں کو کمزور کریں گے جن کی حمایت کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

ایران اس وقت ایک دوراہے پر کھڑا ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ آگے کا راستہ نہ آسان ہوگا اور نہ سیدھا۔ ایک قسم کے غلبے کو دوسری قسم کے غلبے سے بدلنے والا کوئی بھی ’انقلاب‘ کامیابی نہیں، بلکہ ایک اور دھوکہ ہوگا۔

(مضمون نگار اشوک سوین، اوپسلا یونیورسٹی میں امن و تنازعات کی تحقیق کے پروفیسر ہیں)

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...