
ایرانی مظاہرین کے سامنے اصل چیلنج صرف موجودہ نظام کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک اور مسلط کردہ نظام کو روکنا بھی ہے۔ اس کے لیے اندرونی جبر اور بیرونی مداخلت، دونوں کی مزاحمت ضروری ہے۔ یعنی تبدیلی کی قیادت ایران کے اندر، ایرانی عوام کے ہاتھوں، جامع اور حقیقی جمہوری عمل کے ذریعے ہونی چاہیے — پگڑی اور تاج کے جھوٹے انتخاب کو مسترد کرتے ہوئے۔
مغرب کو بھی احتیاط برتنی چاہیے۔ انسانی حقوق کی حمایت، مظالم کی دستاویز سازی اور ایرانی سول سوسائٹی کو آواز دینا جائز ہے، لیکن نظام کی تبدیلی کی سازشیں، جلا وطن دعوے داروں کی سرپرستی یا فوجی دھمکیاں نہیں۔ ایسے اقدامات انہی قوتوں کو کمزور کریں گے جن کی حمایت کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
ایران اس وقت ایک دوراہے پر کھڑا ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ آگے کا راستہ نہ آسان ہوگا اور نہ سیدھا۔ ایک قسم کے غلبے کو دوسری قسم کے غلبے سے بدلنے والا کوئی بھی ’انقلاب‘ کامیابی نہیں، بلکہ ایک اور دھوکہ ہوگا۔
(مضمون نگار اشوک سوین، اوپسلا یونیورسٹی میں امن و تنازعات کی تحقیق کے پروفیسر ہیں)






