
فوٹو: اے پی/پی ٹی آئی
نئی دہلی: امریکی وزارت خزانہ نے جمعرات (5 مارچ) کو ہندوستان کو روسی تیل خریدنے کے لیے 30 دن کی راحت دے دی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کا براہ راست اثر آبنائے ہرمز (سمندری راستہ) سے تیل کی نقل و حرکت پر پڑا ہے۔ ہندوستان کے لیے یہ راستہ بے حد اہم ہے، کیونکہ اس کی تقریباً 40 فیصد خام تیل کی ضرورت اسی راستے سے پوری ہوتی ہے۔
امریکی وزارت خزانہ کے مطابق، روس سے روانہ ہو چکی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی کھیپ کو 5 مارچ سے 4 اپریل کے درمیان ہندوستان میں اتارا جا سکے گا۔ یہ وہ تیل ہے جو پہلے ہی جہازوں پر لادا جا چکا ہے اور فی الحال سمندر کے راستے میں ہے۔
غور طلب ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دوراقتدار میں امریکہ نے روس سے تیل خریدنے کے معاملے پر ہندوستانی مصنوعات پر 25 فیصد جرمانہ ٹیرف عائد کر دیا تھا۔ یہ فیس پہلے سے موجود 25 فیصد ٹیرف سے الگ تھی۔ تاہم ،اس سال کے آغاز میں یہ تعزیری ٹیرف ہٹا دیا گیا تھا، لیکن ٹرمپ نے واضح کر دیا تھا کہ اگر ہندوستان دوبارہ روسی تیل خریدنا شروع کرتا ہے تو یہ فیس دوبارہ نافذ کی جا سکتی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پر اس فیصلے کی اطلاع دیتے ہوئے اسے محدود مدت کا خصوصی اقدام قرار دیا۔ ان کے مطابق، اس سے روس کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔
وزیرِ خزانہ بیسنٹ نے کہا؛
صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی توانائی پالیسی کی بدولت امریکہ میں تیل اور گیس کی پیداوار ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے وزارت خزانہ ہندوستانی ریفائنریوں کو روسی تیل خریدنے کے لیے 30دن کی عارضی چھوٹ دے رہی ہے۔ یہ ایک سوچا سمجھا اور محدود مدت کا اقدام ہے۔ اس سے روسی حکومت کو کوئی بڑا اقتصادی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ اس میں صرف ان کھیپوں کی اجازت دی گئی ہے جو پہلے سے سمندر کے راستے ہیں۔
بیسنٹ نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ ہندوستان امریکہ سے تیل کی خریداری میں اضافہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے عالمی توانائی کی فراہمی کو متاثر کرنے کی کوششوں کے درمیان یہ فیصلہ مددگار ثابت ہوگا۔
جمعرات کو صدر ٹرمپ نے بھی اشارہ دیا تھا کہ وزارت خزانہ بڑھتی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے کچھ اقدامات کر سکتی ہے۔ تاہم ،انہوں نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ اس میں یوکرین جنگ کی وجہ سے روسی تیل پر لگائی گئی پابندیوں میں نرمی بھی شامل ہے یا نہیں۔
مرکزی وزیرپیٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری نے 3 مارچ کو کہا تھا کہ ہندوستان کے پاس اب توانائی کے ایسے ذرائع بھی موجود ہیں جو آبنائے ہرمز سے نہیں گزرتے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے موجودہ بحران کی وجہ سے متاثر ہونے والی سپلائی کی کمی کو پورا کرنے میں مدد ملے گی، اگرچہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ تیل کہاں سے آ رہا ہے۔





