ایران پر امریکہ-اسرائیل حملوں کا 39 واں دن: ٹرمپ کی دھمکیوں میں اضافہ، ایران نے کہا

AhmadJunaidJ&K News urduApril 7, 2026359 Views


ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے جاری ہیں۔ ٹرمپ نے نئے سرے  سے وارننگ دی ہے، جبکہ تہران نے صاف کر دیا ہے کہ مستقبل میں حملے نہ ہونے کی ضمانت کے بغیر وہ جنگ ختم نہیں کرے گا۔ خطے میں کشیدگی اور بے یقینی بدستور قائم ہے۔

بیروت ایئرپورٹ پر اترنے کی تیاری کرتا ایک کمرشل طیارہ، جبکہ لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے داحیہ میں اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔ (اتوار، 5 اپریل 2026) (تصویر: اے پی/پی ٹی آئی)

نئی دہلی: ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا سلسلہ منگل (7 اپریل) کو 39ویں دن میں داخل ہو گیا ہے۔ حالات مسلسل کشیدہ ہیں اور عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سخت بیان بازی بھی جاری ہے۔ اس دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی دھمکیوں کو مزید بڑھاتے ہوئے ملک کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنانے کی بات کہی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے مقررہ وقت تک معاہدہ نہ کیا تو ’پورا ملک ایک رات میں تباہ کیا جا سکتا ہے۔‘ انہوں نے منگل رات 8 بجے (ای ڈی ٹی کے مطابق) کی ڈیڈ لائن کو حتمی قرار دیا اور کہا کہ اس سے پہلے ایران کو کئی موقع دیے جا چکے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے 45 دن کی جنگ بندی کا منصوبہ پیش کیا گیا تھا، جسے تہران نے مسترد کر دیا اور مستقل طور پر جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ صرف اسی صورت میں جنگ بندی کے لیے تیار ہوگا، جب اسے مستقبل میں حملے نہ ہونے کی ضمانت دی جائے۔ قاہرہ میں ایران کے سفارتی مشن کے سربراہ مجتبیٰ فردوسی پور نے کہا کہ گزشتہ مذاکرات کے دوران امریکی حملوں کے بعد اب ایران کو ٹرمپ انتظامیہ پر اعتماد نہیں ہے۔

اس کشیدگی کے اثرات خلیجی خطے میں بھی نظر آنے لگے ہیں۔ سعودی عرب کو بحرین سے ملانے والا کنگ فہد کاز وے احتیاطی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ایرانی حملوں کے خدشے کے پیش نظر یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ تقریباً 25 کلومیٹر طویل یہ پل بحرین کو جزیرہ نما عرب سے ملانے والا واحد زمینی راستہ ہے اور اسٹریٹجک طور پر نہایت اہم ہے۔

میدان میں اسرائیل کی فوجی کارروائیاں بھی تیز ہیں۔ اسرائیلی فوج نے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ میں واقع ایک بڑے پیٹروکیمیکل پلانٹ کو نشانہ بنایا۔ یہ علاقہ دنیا کا سب سے بڑا قدرتی گیس ذخیرہ سمجھا جاتا ہے، جو قطر کے ساتھ مشترکہ ہے اور ایران کی توانائی ضروریات کا اہم ذریعہ ہے۔ اس سے پہلے مارچ میں اسی علاقے پر حملے کے بعد ایران نے مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے توانائی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تھا، جس سے کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔

اسرائیل نے ایران کی پاسداران انقلاب سے وابستہ انٹلی جنس چیف میجر جنرل ماجد خادمی اور قدس فورس کی ایک خفیہ یونٹ کے سربراہ اصغر باقری کو ہلاک کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ اعلیٰ ایرانی عہدیداروں کو’ایک ایک کر کے نشانہ بنایا جائے گا۔‘

تہران میں عام شہریوں کے لیے حالات نہایت مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق مسلسل بمباری، ڈرون اور فضائی دفاعی نظام کی آوازیں سنائی دیتی رہتی ہیں۔ کئی لوگ رات گزارنے کے لیے نیند کی گولیوں کا سہارا لے رہے ہیں، جبکہ بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے حوالے سے بھی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اسرائیل نے تہران کے بہرام، مہرآباد اور آزمائش ایئرپورٹس پر بھی حملے کیے ہیں، جہاں ایرانی فضائیہ کے کئی ہیلی کاپٹرز اور طیاروں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

اس دوران ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایرانی شہری’آزادی کے لیے تکلیف برداشت کرنے کو تیار ہیں‘، تاہم زمینی سطح پر کسی بڑے عوامی احتجاج کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ جب ان سے شہری ڈھانچے پر حملوں کے حوالے سے ممکنہ جنگی جرائم کے الزامات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اسے مسترد کر دیا۔

بین الاقوامی سطح پر اس اس جنگ نے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ نے شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں کو بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ تنظیم کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا کہ ایسے حملے کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہو سکتے۔

سفارتی سطح پر بھی کوششیں جاری ہیں۔ مصر، پاکستان اور ترکی کی ثالثی میں ایک تجویز تیار کی گئی ہے، جس میں جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی بات شامل ہے۔ تاہم، ابھی تک اس حوالے سے کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے عام حالات میں دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل گزرتا ہے۔ ایران نے 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے امریکہ اور اسرائیل سے منسلک جہازوں کو اس راستے سے گزرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔

مجموعی طور پر، 39 دن سے جاری اس جنگ میں فوجی حملے، سخت بیان بازی اور ناکام سفارتی کوششیں ایک ساتھ جاری ہیں، لیکن فی الحال حالات میں کسی واضح بہتری کے آثار نظر نہیں آ رہے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...