ایران پر امریکہ – اسرائیل حملوں کا 38 واں دن: ٹرمپ کی دھمکی کے درمیان تہران اور بیروت میں تباہی، ہندوستان میں ایل پی جی کی شدید قلت

AhmadJunaidJ&K News urduApril 6, 2026359 Views


امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ 38 ویں دن مزید پرتشدد ہو گئی ہے۔ تہران اور بیروت میں حملوں سے شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ٹرمپ کی نئی دھمکیوں نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس جنگ کے باعث ہندوستان میں ایل پی جی کی سپلائی اور قیمتوں کے حوالے سے عام لوگوں کی تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔

ایران کے زنجان میں گرینڈ حسینیہ کمپلیکس میں امریکی-اسرائیلی فضائی حملوں سے متاثرہ عمارت کو دیکھتے لوگ؛ پس منظر میں مسجد بھی نظر آ رہی ہے۔ (4 اپریل 2026) (فوٹو: اے پی/فرانسسکو سیکو)

نئی دہلی: مغربی ایشیا میں جاری امریکہ–اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ سوموار کے روز 38ویں دن میں داخل ہو گئی ہے۔ یہ تنازعہ اب صرف عسکری تصادم تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے انسانی، معاشی اور علاقائی اثرات مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ایک بار پھر سخت اور توہین آمیز زبان میں دھمکی دی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ اگر ایران نے مقررہ وقت تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہ کھولا تو منگل’پاور پلانٹ ڈے اور برج ڈے‘ ہوگا، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

یہ جنگ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں سے شروع ہوئی تھی۔ تب سے اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہوئی ہے، سمندری تجارتی راستے متاثر ہوئے ہیں اور ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

لبنان میں رہائشی علاقے پر حملہ

دریں اثنا، لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک رہائشی علاقے پر حملے نے تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بین الاقوامی امدادی تنظیم ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کے مطابق، جناح علاقے میں حملہ گنجان آبادی والے علاقے میں ہوا، جو رفیق حریری پبلک اسپتال سے چند میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

لبنان کی وزارت صحت کے مطابق بغیر کسی پیشگی وارننگ کے ہونے والے اس حملے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 39 زخمی ہوئے ہیں۔ اسپتال میں تعینات ایم ایس ایف کی میڈیکل کوآرڈینیٹر لونا حماد نے بتایا کہ  کئی بزرگ اور نوعمر افراد شدید زخمی حالت میں اسپتال لائے جا رہے ہیں، جن کے سر، سینے اور پیٹ پر گہری چوٹیں ہیں۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اسپتالوں کے قریب حملے لوگوں میں خوف پھیلاتے ہیں اور وہ علاج کے لیے آنے سے ہچکچاتے ہیں۔

تہران میں یونیورسٹی اور رہائشی علاقوں پر حملے

ایران کے دارالحکومت تہران میں سوموارکی صبح فضائی حملے کیے گئے، جن میں معروف شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، اس حملے میں یونیورسٹی کی عمارتوں اور قریبی گیس ڈسٹری بیوشن سینٹر کو نقصان پہنچا ہے۔ تاہم، یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اصل ہدف کیا تھا۔ جنگ کے باعث یونیورسٹی پہلے ہی خالی کرائی جا چکی تھی اور کلاسز آن لائن چل رہی ہیں۔

اسی طرح تہران کے جنوب مغرب میں واقع اسلام شہر میں ایک رہائشی عمارت پر حملے میں کم از کم 13 افراد کی ہلاکت کی خبر ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ اس عمارت کو کیوں نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کی ذمہ داری نہ تو امریکہ نے قبول کی ہے اور نہ ہی اسرائیل نے، تاہم یہ واقعات ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کے بعد سامنے آئے ہیں۔

ایک دن میں کئی شہروں پر حملے

اتوار سے سوموار کے درمیان ایران کے کئی شہر (اہواز، بندر لنگہ، کرج اور شیراز) حملوں کی زد میں آئے۔ بندر لنگہ اور کنگ میں ہونے والے حملوں میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے ہیں۔ جبکہ تہران کے ایک اور علاقے میں ایک گھر پر حملے میں تین افراد کی جان  گئی۔

ہندوستان میں اثرات: ایل پی جی بحران اور سختی

اس جنگ کے اثرات ہندوستان میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ایندھن کی فراہمی اور قیمتوں کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو رہاہے، خصوصی طور پررسوئی گیس (ایل پی جی) کے بارے میں عوام میں بے چینی کی کیفیت دیکھی  جا رہی ہے۔

دریں اثنا، دہلی میں انتظامیہ نے ایل پی جی سلنڈروں کی فروخت پر سختی بڑھا دی ہے۔ گوداموں سے براہ راست سلنڈر فروخت کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی وارننگ دی گئی ہے۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے بھی ڈسٹری بیوٹرز کو واضح ہدایات دی ہیں کہ اسٹوریج مقامات سے براہ راست فروخت غیر قانونی ہے۔

بڑھتا ہوا بحران

مغربی ایشیا میں جاری یہ تنازعہ اب ایک بڑے علاقائی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کے اثرات سرحدوں سے باہر تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ مسلسل بڑھتے حملے، شہری علاقوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات اور عالمی سپلائی نظام پر اثرات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صورتحال فی الحال قابو میں آنے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...