
تل ابیب (اسرائیل) میں 22 مارچ 2026 کو ایرانی میزائل حملے سے تباہ شدہ ایک عمارت کا معائنہ کرتے ہوئے اسرائیلی ہوم فرنٹ کمانڈ کے اہلکار۔ (تصویر: اے پی/پی ٹی آئی)
نئی دہلی: ایران پر امریکہ-اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ سوموار (30 مارچ) کو 31ویں دن میں داخل ہو گئی۔ اس دوران تنازعہ کا دائرہ مسلسل بڑھتا جارہا ہے اور ایران نے جوابی کارروائی میں خلیجی ممالک کو بھی نشانہ بنانا جاری رکھا ہے۔
کویت میں واقع ہندوستانی سفارت خانے نے تصدیق کی ہے کہ 29 مارچ کو ایک ڈی سیلینیشن (سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے) پلانٹ پر حملے میں ایک ہندوستانی شہری ہلاک ہو گیا۔
سفارت خانے نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کویتی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
Embassy of India in Kuwait expresses its deepest condolences at the tragic demise of an Indian national due to an attack on a desalination facility in Kuwait yesterday. The Embassy is closely coordinating with the Kuwaiti authorities to render all possible support and assistance.
— India in Kuwait (@indembkwt) March 30, 2026
ایران کے تیل پر قبضہ کرنا چاہتا ہوں: ٹرمپ
برطانوی اخبار’فنانشل ٹائمز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے تیل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا،’ایمانداری سے کہوں تو، میری پسندیدہ چیز ایران کے تیل پر قبضہ کرنا ہے۔ لیکن امریکہ میں کچھ احمق لوگ کہتے ہیں کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ لیکن وہ احمق ہیں۔‘
دوسری جانب ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات کا دعویٰ بھی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ ’براہ راست اور بالواسطہ‘ دونوں طریقوں سے بات چیت کر رہا ہے۔
تاہم، ایران نے ایسی کسی بھی بات چیت سے انکار کیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ امریکہ زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔
ٹرمپ کے بیانات میں بھی تضاد نظر آیا؛ ایک طرف انہوں نے مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ کیا، جبکہ دوسری طرف یہ بھی کہا کہ ’ہم بات چیت کرتے ہیں اور پھر ہمیں انہیں بم سے اڑانا پڑتا ہے۔‘
خارگ جزیرے پر قبضے کا اشارہ
فنانشل ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے ایران کے اہم تیل ٹرمینل خارگ جزیرے پر قبضہ کرنے کے امکان کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’شاید ہم اسے لے لیں، شاید نہ لیں‘، لیکن یہ بھی تسلیم کیا کہ ایسا کرنے کی صورت میں امریکی فوج کو وہاں طویل عرصے تک رہنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق خارگ جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنا اور اسے برقرار رکھنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ یہ ایران کے مرکزی علاقے کی میزائل اور توپ خانے کی حد میں آتا ہے۔
اسرائیل–لبنان محاذ پر بھی کشیدگی
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے جنوبی لبنان میں فوجی کارروائی بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’بفر زون کو مزید وسیع کیا جائے گا‘، اور اس کی وجہ حزب اللہ کی جانب سے جاری راکٹ حملوں کو قرار دیا۔
لبنان کے حکام کے مطابق، اب تک 1,200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 10 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں، جبکہ پانچ اسرائیلی فوجیوں کی بھی موت ہوئی ہے۔
مختلف محاذوں پر اب تک بھاری جانی نقصان ہوا ہے
ایران میں 1,900 سے زائد افراد ہلاک
اسرائیل میں 19 افراد ہلاک
عراق میں 80 سکیورٹی اہلکار مارے گئے
خلیجی ممالک میں 20 افراد ہلاک
ویسٹ بینک میں 4 افراد ہلاک
تیرہ امریکی فوجی بھی مارے گئے ہیں
زمینی جنگ کا خدشہ اور تلخ بیان بازی
ایران کے پارلیامنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ان کی فوج ’امریکی زمینی فوجیوں کا انتظار کر رہی ہے تاکہ انہیں سبق سکھایا جا سکے۔‘
دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی فوج اس کے علاقے میں داخل ہوئی تو وہ خلیج فارس میں بارودی سرنگیں بچھا سکتا ہے اور خلیجی ممالک میں زمینی حملے بھی کر سکتا ہے۔
تیل کا شدیدبحران ، عالمی اثرات
اس تنازعہ کا اثر عالمی توانائی منڈی پر بھی واضح طور پرنظر آ رہا ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 115 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جو 28 فروری کو حملے شروع ہونے کے بعد سے تقریباً 60 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
خلیج فارس اور آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت نے عالمی تیل اور گیس کی فراہمی کے حوالے سے سنگین تشویش پیدا کر دی ہے۔ دنیا کے کل تیل کی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
مذاکرات کی کوششیں، مگر غیر یقینی صورتحال برقرار
امریکہ نے ایران کے سامنے 15 نکاتی تجویز رکھی ہے، جس میں آبنائے ہرمز کو جہازرانی کے لیے کھولنے کا مطالبہ شامل ہے۔ جبکہ ایران نے اپنی پانچ شرائط پیش کی ہیں، جن میں اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنی خودمختاری برقرار رکھنا اہم ہے۔
پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کرے گا، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ بات چیت براہ راست ہوگی یا بالواسطہ۔
سفارتی پیش رفت: پاکستان کی میزبانی، مگر غیر یقینی برقرار
اس دوران پاکستان نے 29 مارچ کو اعلان کیا کہ وہ جلد امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک نے پاکستان پر اعتماد ظاہر کیا ہے اور ’آنے والے دنوں میں بامعنی بات چیت‘ کرائی جائے گی۔ اسلام آباد میں ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بھی اس تنازعہ کے معاشی اور عالمی اثرات، خاص طور پر سپلائی چین، خوراک کی سلامتی اور توانائی کی قیمتوں پر تشویش ظاہر کی گئی۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ مجوزہ مذاکرات براہ راست ہوں گے یا بالواسطہ۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے، لیکن انہوں نے پاکستان میں ممکنہ بات چیت پر براہ راست کچھ نہیں کہا۔ دوسری جانب ایران کے پارلیامنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ان کوششوں کو ’اوٹ ‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور الزام لگایا کہ یہ سب خطے میں امریکی فوجی موجودگی بڑھانے کے ساتھ ساتھ ہو رہا ہے۔
پاکستان کے اس فعال کردار پر ہندوستان کے اسٹریٹجک حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اسلام آباد اب بھی بڑے جیوپولیٹکل معاملات میں اپنی جگہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو ہندوستان کی پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی حکمت عملی پر سوال اٹھاتا ہے۔
ہندوستان پر اثر: ایل پی جی بحران کے درمیان مٹی کے تیل کی عارضی واپسی
جنگ کا اثر ہندوستان میں بھی نظر آ رہا ہے۔ مرکزی حکومت نے گھریلو ضروریات کے لیے پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم(پی ڈی ایس) کے تحت مٹی کے تیل کی عارضی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ 60 دن کا ہنگامی اقدام ہے، جس کا مقصد ایل پی جی (گھریلو گیس) پر بڑھتے دباؤ کو کم کرنا ہے۔
سرکاری حکم کے مطابق، مٹی کا تیل کھانا پکانے اور روشنی دونوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس کے تحت ان 21 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بھی پی ڈی ایس کے تحت مٹی کے تیل کی فراہمی عارضی طور پر دوبارہ شروع کی جا رہی ہے، جنہیں پہلے ’ مٹی کے تیل سے پاک ‘ قرار دیا جا چکا تھا۔
یہ قدم اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی توانائی کی فراہمی پر پڑنے والے اثرات اور قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر حکومت گھریلو سطح پر ایندھن کی دستیابی برقرار رکھنے کے لیے متبادل انتظامات کر رہی ہے۔
Categories: خاص خبر, خبریں, عالمی خبریں






