اسرائیل امریکہ کے مشترکہ حملے میں ایران کے سپریم لیڈر اور روحانی پیشوا حجت الاسلام آیت اللہ حسن علی خامنہ ای کی ان کے اہل خانہ کے ساتھ شہادت اور تقریباً 165 اسکولی بچیوں کے بہیمانہ قتل نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ حملہ اس وقت ہوا جب امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری تھا۔ 2 دن قبل تیسرے دور کی عمان کی ثالثی میں ہوئی گفتگو کے مثبت سمت میں جانے کا دعویٰ تھا۔ حالانکہ اس میں امریکی نمائندے نے نئی شرائط کی فہرست ایرانی نمائندے کو تھمائی تھی۔ جس میں ایران کے تینوں اٹامک مراکز پر تالا لگانا، میزائیل پروگرام بند کرنا اور حماس جیسے گروپوں کی حمایت کو روکنا شامل تھا۔ ایران نے ظاہری طور پر یہ شرائط منظور نہیں کیں لیکن آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایک صلاح کار نے کہا تھا کہ اگر جنیوا کی بات چیت صرف اٹامک ہتھیار نہ بنانے تک محدود رہتی ہے تو دونوں ممالک میں سمجھوتا ہو سکتا ہے۔ ویسے بھی ایران ہمیشہ سے اٹامک ہتھیاروں سے انکار کرتا رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اٹامک پروگرام کو پوری طرح بند نہیں کر سکتا، کیونکہ طوانائی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے اسے اس کی ضرورت ہے۔
اگر امریکہ اسرائیل کا حملہ نہ ہوتا تو اگلی میٹنگ ویانا میں ہوتی۔ جس کے بارے میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ اب تک کی جتنی بھی بات چیت ہوئی ہے اس میں یہ سب سے سنجیدہ ہوگی۔ ایسا لگتا ہے کہ گفتگو محض ایک بہانہ تھا تاکہ اسرائیل کو تیاری کے لیے زیادہ وقت مل سکے۔ شاید امریکہ اور اسرئیل نے اس حملہ کی تیاری بہت پہلے شروع کی تھی۔ وینزویلا کے صدر کی مجرمانہ گرفتاری اس سلسلہ کی کڑی معلوم ہوتی ہے۔ اس وقت ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وینزویلا کے تیل پر پہلا حق ہمارا ہے۔ امریکہ جانتا تھا کہ حملہ کی صورت میں ایران آبنائے ہرمز بند کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں وینزویلا سے امریکہ اور یورپ کو تیل کی ترسیل جاری رہے گی۔ جنگ کے دوران ایران نے ہرمز کو بند کر ایشیائی ممالک کو ہونے والی تیل کی سپلائی بند کر دی۔ اس سے جو بھی نقصان ہوگا وہ ایشیائی ممالک کا ہی ہوگا۔
ایران پر امریکہ اسرائیل کے مشترکہ حملہ کے پیچھے کئی تھیوریاں بتائی جا رہی ہیں۔ ایک طبقہ مانتا ہے کہ جب بھی امریکہ یا اسرئیل میں انتخابات قریب آتے ہیں تو وہاں کے حکمراں کامیابی کے لیے جنگ کا سہارا لیتے ہیں۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کو چند ماہ بعد الیکشن میں جانا ہے۔ پالیسیوں اور اقتصادی صورتحال کی وجہ سے امریکی عوام ٹرمپ سے ناراض ہیں۔ امریکہ میں اس حملہ کے حوالے سے جو پول کرایا گیا اس میں صرف 33 فیصد لوگ ہی اس کے حق میں تھے۔ ڈیموکریٹک ہاؤس مائنرٹی لیڈر حکیم جیفریس نے کہا کہ ’’ڈونالڈ ٹرمپ ایران پر حملہ کرنے سے پہلے کانگریس سے منظوری لینے میں ناکام رہے تھے‘‘۔ وہیں نیتن یاہو بدعنوانی اور وار کرائم کے سنگین جرائم کا مجرم ہے۔ اقتدار ہاتھ سے جاتے ہی انہیں جیل جانا پڑے گا۔ وہ اپنے ملک سے بھی باہر نہیں جا سکتے، بین الاقوامی عدالت نے ان کے خلاف وارنٹ ایشو کر رکھا ہے۔ وہ کہیں بھی جائیں گے تو گرفتار ہو جائیں گے۔ اپنی جان بچانے کے لیے الیکشن میں کامیابی حاصل کرنا ضروری ہے۔ دوسری تھیوری یہ ہے کہ امریکہ پوری دنیا کے معدنیات اور تیل پر اپنا قبضہ چاہتا ہے۔ وہ اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک پر اس کا تسلط اسی مقصد کے لیے ہے۔ مسلم ممالک کے سربراہان کی حفاظت کے نام پر بنے امریکی فوجی اڈوں کا مقصد ان کی نگرانی ہے۔ جبکہ مسلم حکمراں اسے اپنے لیے باعث افتخار تصور کرتے ہیں۔ کئی حضرات اس حملے کو بھی ایران کے وسائل پر قبضہ کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔
کئی مبصرین اس پورے معاملہ کو ایپسٹین فائلس کے پس منظر میں دیکھ رہے ہیں۔ ان فائلوں میں دنیا کے طاقتور لوگوں کے ناموں کا انکشاف کیا گیا ہے جس کے باعث استعفوں سے لے کر گرفتاریوں تک مختلف کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ کہا گیا ہے کہ ابھی 80 فیصد فائلیں اور ظاہر کی جائیں گی۔ اس طرف سے دنیا کا دھیان ہٹانے کے لیے یہ جنگ چھیڑی گئی ہے۔
مذہبی طبقہ اسے عقیدے کی جنگ مان رہا ہے۔ ڈاکٹر تسلیم رحمانی کا کہنا ہے کہ صیہونیت کا ماننا ہے کہ ظہور دجال کا زمانہ قریب آ گیا ہے اور ان کے استقبال کے اقدامات ضروری ہیں۔ جس کے لیے گریٹر اسرائیل کا قیام لازمی ہے۔ اسرائیل قدیم یہودی بستیوں کو اپنی حکومت کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔ اس کا مجوزہ نقشہ اسرائیلی وزیر اعظم اقوام متحدہ میں دکھا بھی چکے ہیں۔ تقریباً پورا مشرق وسطیٰ اس نقشہ میں شامل ہے جس میں موجود ممالک کے ساتھ اسرائیل اپنے سیاسی و سفارتی تعلقات پہلے ہی استوار کر چکا ہے۔ ابراہیمی معاہدہ اس کا شاہد ہے۔ ان ممالک کا فوجی اور اقتصادی انحصار بھی زیادہ تر اسرائیل پر ہے۔ اس راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ایران ہے جو 1979 میں ایرانی اسلامی انقلاب کے بعد سے ہی واضح لفظوں میں اسرائیل کی اس پالیسی کا شدید مخالف رہا ہے، اس لیے کہ اعتقادی طور پر ایرانی حکومت کا بھی یہ ماننا ہے کہ امام مہدی کا ظہور عنقریب ممکن ہے اور ان کے استقبال کی تیاری کی جانی چاہیے۔ اس غرض سے ایرانی انقلاب کے قائدین نے یوم اول سے ہی فلسطینی کاز کی کھل کر حمایت بھی کی اور ہر قسم کی مدد بھی کرتے رہے۔ نیز غزہ اور اسرائیل کی جنگ میں ایران کی یہ مدد واضح طور پر ساری دنیا نے محسوس بھی کی ہے۔ لبنان کا حزب اللہ بھی اسرائیلی سرحد پر واقع ہے۔ ایرانی انقلاب کے بعد وہ بھی اسرائیل کی توسیع پسند پالیسی کی قوت کے ساتھ مخالفت کرتا رہا ہے۔ اسرائیل یہ جانتا ہے کہ چاروں طرف موجود مسلم ممالک سے وہ تنہا مقابلہ نہیں کر سکتا، اس لیے اسے امریکی مدد کی شدید ضرورت رہی ہے۔
غور کرنے کی بات یہ ہے کہ مسلم ممالک امریکہ و اسرائیل کی منشاء کو نہیں سمجھتے یا غلط صحیح طریقہ سے اپنا اقتدار قائم رکھنے کے لیے ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایران پر حملہ کر مٹانے کے لیے امریکہ میں موجود صیہونی لابی کے ساتھ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی ٹرمپ پر دباؤ بنایا تھا۔ ایران نے جون 2025 میں اسرائیل سے 12 دن چلی جنگ کے دوران بین الاقوامی قانون یاد دلایا تھا کہ کوئی بھی ملک اپنی سر زمین کسی ملک کو دوسرے ملک پر حملہ کرنے کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اگر کسی ملک کی زمین اس کے خلاف حملہ کے لیے استعمال ہوگی تو ایران اس پر حملہ کرے گا۔ اسی کے تحت ایران نے یو اے ای، سعودی عرب، قطر، بحرین، اردن، ترکیے، کویت سمیت امریکہ کے 28 فوجی اڈوں پر حملہ کیا۔ امریکہ نے اپنے ٹھکانوں سے فوجیوں کو محفوظ جگہ جانے کو کہا۔ اسرائیل ایرانی حملوں کی آڑ میں مشرق وسطیٰ کے ممالک میں بڑے پیمانے پر بم دھماکے کرنے کی سازش کر رہا تھا، جس کا انکشاف قطر اور سعودی عرب میں موساد کے پکڑے گئے ایجنٹ سے ہوا۔ سعودی عرب کی سب سے بڑی تیل ریفائنری آرامکو پر بھی اسرائیل نے ہی حملہ کیا تھا جس کا الزام وہ ایران پر لگانا چاہتا تھا۔ لیکن ایران نے پہلے ہی اس کی وضاحت کر دی تھی کہ اس کا ٹارگیٹ امریکی فوجی ٹھکانے ہیں۔ وہ یہ پیغام دینے میں بھی کامیاب رہا ہے کہ جو امریکہ اپنے بیس کو نہیں بچا سکتا وہ ان کی حفاظت کیسے کرے گا۔ اس کے باوجود مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی نے ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملہ کی مذمت کرنے کے بجائے الٹے ایران کی ہی مخالفت کی ہے۔
اچانک امریکہ و اسرائیل کے ایران پر حملے میں سپریم لیڈر اور تقریباً 165 چھوٹی بچیوں کی موت نے پوری دنیا کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس کی وجہ سے برطانیہ اور جاپان جیسے ممالک نے بھی امریکہ سے کنارہ کر لیا ہے۔ مسلم ناٹو کی بات کرنے والے ممالک پاکستان، ترکیے اور سعودی عرب کو اس وقت ایران کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا، لیکن ان کی وفاداری امریکہ کے ساتھ دکھائی دے رہی ہے۔ حالات سے لگ رہا ہے کہ یہ جنگ لمبی چلے گی، اگر ایسا ہوا تو اس کا سب سے زیادہ نقصان ایشیاء اور مسلم ممالک کو بھگتنا پڑے گا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


































