
ایرانی خبر رساں ادارے ’مہر‘ کے مطابق تہران نے اس فیصلے کو مغربی طاقتوں کی جانب سے سفارت کاری کی راہ دفن کرنے کے مترادف قرار دیا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ’’امریکہ نے سفارت کاری سے غداری کی ہے مگر اصل میں ای تھری (برطانیہ، فرانس، جرمنی) نے اسے دفن کر دیا ہے۔‘‘ ان کے مطابق یہ اسنیپ بیک عمل قانونی طور پر باطل، سیاسی طور پر غیر ذمہ دارانہ اور طریقہ کار کے اعتبار سے ناقص ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران کا نیوکلیئر عدم پھیلاؤ معاہدے (این پی ٹی) سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’’ایران کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، ہم اپنے افزودہ یورینیم کے بارے میں مکمل شفاف رہنے کے لیے تیار ہیں۔ ایران مسلسل اس الزام کی تردید کرتا آیا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔






