ایران: لڑکیوں کے اسکول پر حملے کے بعد امریکی لیڈر کا متنازعہ بیان

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 9, 2026359 Views


ایران کے شہر میناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پر میزائل حملے میں 175 افراد کی ہلاکت کے بعد امریکہ کے کنزرویٹو پولیٹیکل ایکشن کانفرنس کے صدر میٹ شلیپ نے ایک ٹی وی مباحثے میں کہا کہ طالبات ’زندہ ہوتیں لیکن برقع پہنے ہوئے۔‘ ان کے اس تبصرے کو انتہائی غیر انسانی اور غیر حساس قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

میناب کے اسکول میں ماری جانے والی طالبات کو تدفین کے لیے لے جاتے ہوئے۔ (دائیں) کنزرویٹو پولیٹیکل ایکشن کانفرنس کے صدر میٹ شلیپ۔ (تصویر: اے پی اور ایکس)

نئی دہلی:ایران کے جنوبی شہر میناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پر ہوئے مہلک حملے کے بعد امریکی دائیں بازو کے سیاسی کارکن اور سی پی اے سی (کنزرویٹو پولیٹیکل ایکشن کانفرنس) کے صدر میٹ شلیپ کے بیان پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

ایک ٹی وی مباحثے کے دوران انہوں نے حملے میں ہلاک ہونے والی طالبات کے بارے میں کہا،’وہ زندہ ہوتیں، مگر برقع پہن کر۔‘

ان کے اس  بیان کو غیر انسانی اور غیر حساس قرار دیا جا رہا ہے۔

دراصل، 28 فروری 2026 کو میناب کےشجرہ طیبہ پرائمری گرلز اسکول پر میزائل حملہ ہوا تھا۔ اس حملے میں کم از کم 175 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر 7 سے 12 سال کی طالبات تھیں، جبکہ کئی دیگر زخمی ہوئے۔

حملے میں اسکول کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا اور ملبے سے بچوں کے بیگ اور اسکول یونیفارم برآمد ہوئے۔اقوام متحدہ اور کئی بین الاقوامی تنظیموں نے اس واقعہ پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسکولوں اور بچوں جیسے شہری اہداف کا تحفظ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت لازمی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل نے کہا کہ اسکول کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا اور واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ تاہم، نیویارک ٹائمز کی تحقیقات کے مطابق لڑکیوں کے اسکول پر حملہ امریکی فوجی کارروائی کا نتیجہ تھا۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب امریکہ ایران کے بحری اڈوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔

ٹی وی مباحثے میں میٹ شلیپ کا بیان

اس واقعہ پر بحث کے دوران برطانوی صحافی پیئرز مورگن کے پروگرام ’پیئرز مورگن ان-سنسرڈ‘ میں میٹ شلیپ بھی شامل ہوئے۔بحث کے دوران جب پینل میں شامل صحافی پیٹر بینارٹ نے کہا کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے حملہ نہ کیا ہوتا تو وہ طالبات زندہ ہوتیں، تو شلیپ نے درمیان میں مداخلت کرتے ہوئے کہا،’وہ زندہ ہوتیں، مگر برقع پہن کر۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کہنا ’منافقت ‘ہے کہ حملوں سے خواتین اور بچوں کو نقصان پہنچا، کیونکہ ان کے مطابق وہ لڑکیاں ’ایک غیر مساوی اور وحشی معاشرے میں برقع پہن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہوتیں اور انہیں اپنا کیریئر منتخب کرنے کی آزادی نہیں ہوتی۔‘

اس تبصرےکے بعد پینل میں موجود سیاسی مبصر جینک اویغور نے ان سے سوال کیا،’تو کیا اس کا مطلب ہے کہ انہیں مار دیا جائے؟‘

اس پر شلیپ نے کہا کہ ان کا یہ مطلب نہیں تھا، لیکن بحث میں موجود کئی لوگوں نے ان کی دلیل کو انتہائی غیرحساس قرار دیا۔

بیان پر تنقید

شلیپ کے بیان کے بعد صحافیوں، تجزیہ کاروں اور سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں لوگوں نے سخت تنقید کی۔ کچھ ماہرین نے یہ بھی کہا کہ ایران میں لڑکیاں عموماً برقع نہیں بلکہ حجاب اور اسکول یونیفارم پہنتی ہیں، اس لیے شلیپ کا بیان زمینی حقیقت سے ناواقفیت کو ظاہر کرتا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی معاشرے کے سیاسی یا مذہبی نظام پر تنقید کرنا ایک الگ بات ہے، لیکن اس میں رہنے والے بچوں کی موت کو اس طرح جائز ٹھہرانا اخلاقی طور پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔

وسیع انسانی تشویش

میناب کے اس حملے کے بعد ایران میں بڑے پیمانے پر سوگ کی تقریبات اور آخری رسومات کی ادائیگی ہوئی۔ مقامی کمیونٹی میں گہرا دکھ اور غصہ دیکھا گیا۔
کئی بین الاقوامی تنظیموں اور تعلیم کے حق کے لیے کام کرنے والے گروپوں نے بھی اس واقعہ کو جنگ میں بچوں کے تحفظ سے متعلق ایک سنگین مسئلہ قرار دیا ہے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...