
دریں اثنا ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکہ کے حوالے سے تمام متبادل راستے کھلے ہیں۔ ان کے مطابق ایران وقار پر مبنی سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر ایسا دفاع بھی کیا جائے گا جو مخالف کو اپنی پالیسی پر نظرثانی پر مجبور کر دے۔
ادھر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا کہ وہ ایران کے ساتھ تنازعہ کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔






