
مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اب ایک کھلی جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے، جس نے خطے کے ساتھ ساتھ عالمی سیاست کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ حالیہ حملوں اور جوابی کارروائیوں نے اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور صورتحال مسلسل غیر یقینی کا شکار ہے۔
قومی آواز کے ڈیجیٹل ایڈیٹر سید خرم رضا کے مطابق ایران نے فوری اور منظم ردعمل دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ اس کا نظام کسی ایک قیادت تک محدود نہیں بلکہ مضبوط ادارہ جاتی بنیادوں پر قائم ہے۔ ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں نے نہ صرف اسرائیل بلکہ خطے میں موجود امریکی مفادات کو بھی چیلنج کیا ہے، جس سے طاقت کے توازن پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
ادھر امریکہ کے بدلتے ہوئے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ابتدائی اندازے حقیقت کے مطابق نہیں تھے۔ یہ سمجھا جا رہا تھا کہ قیادت کو نقصان پہنچنے کے بعد ایران کمزور پڑ جائے گا، تاہم اس کے برعکس ایران نے عسکری اور سیاسی دونوں محاذوں پر خود کو مستحکم دکھایا ہے۔
ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ اس جنگ کا ایک اہم پہلو مسلم دنیا میں بڑھتی ہوئی شیعہ سنی تقسیم ہے، جو خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ تقسیم گہری ہوتی گئی تو بیرونی طاقتیں اس سے فائدہ اٹھاتی رہیں گی۔
موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ خطے کے ممالک دانشمندی، اتحاد اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کریں، کیونکہ یہ جنگ صرف ہتھیاروں کی نہیں بلکہ نظریات اور بیانیوں کی بھی جنگ بن چکی ہے۔





