
شہزین صدیقی نے اپنے وکیل تریویندر کمار کرنانی کے ذریعے داخل کردہ عرضی میں الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے اب تک کی گئی تفتیش میں جان بوجھ کر اصل مجرموں کو بچانے کی کوشش کی ہے اور کیس کو غلط سمت میں موڑ دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق پولیس نے محض ظاہری کارروائی پر اکتفا کیا اور شواہد کو نظرانداز کیا، جس سے انصاف پر سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے۔
یاد رہے کہ 12 اکتوبر 2024 کی رات بابا صدیقی کو ممبئی کے باندرہ (مشرق) علاقے میں ان کے بیٹے جیشان صدیقی کے دفتر کے باہر گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ اس واردات کے تقریباً ایک سال بعد ان کی اہلیہ نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔






